1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دورہ پاکستان اور افغان تنازعہ، اوباما کو بریفنگ

افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی حکمت عملی پر ہونی والی پیش رفت پرامریکی صدر باراک اوباما کو ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ اس بریفنگ کو اوباما کے دورہ پاکستان کی تیاری سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

default

امریکی صدر باراک اوباما نےکہہ رکھا ہے کہ وہ رواں سال پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اسی تناظر میں جمعرات کو اعلیٰ امریکی فوجی اہلکاروں، خفیہ اداروں کے ماہرین اور صدر کی قومی سلامتی کی ٹیم کے اعلیٰ ممبران نے افغانستان اور پاکستان کے موجودہ حالات پر خصوصی میٹنگ کے دوران صدر اوباما کو اہم معلومات سے مطلع کیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ربراٹ گبس نے بتایا،' صدر اوباما کو افغانستان کی زمینی صورتحال کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی گئیں۔ اس میں سلامتی کی صورتحال کے علاوہ وہاں انسداد دہشت گردی کی کارراوئیوں کو خصوصی توجہ حاصل رہی۔'

Robert Gibbs Pressesprecher Weißes Haus

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ربراٹ گبس

رابرٹ گبس نے مزید کہا کہ اس ملاقات کے دوران زیادہ تر اس امر پر گفتگو کی گئی کہ سن 2011ء کے دوران افغانستان اور پاکستان کے لیے واشنگٹن حکومت کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر ان مخصوص صورتحال میں مطلوبہ توجہ نہ دی گئی تو یہ پیش رفت واپس بھی ہو سکتی ہے۔

اس وقت افغانستان میں ایک لاکھ کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں تاہم رواں سال جولائی سے ان کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال کے اواخر میں اوباما نے دہرایا تھا کہ ان کی نئی پالیسی کے تحت جولائی سے امریکی فوجیوں کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کر دیا جائے گا جبکہ سن 2014ء تک افغانستان میں تمام تر کنٹرول افغان حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

افغانستان میں تعینات مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے رواں ہفتے ہی کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان باغی پسپا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران ان کی افواج کو بالخصوص ملک کے جنوبی علاقوں میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں، جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM