1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دورہء ویسٹ انڈیز، پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے چہرے

پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم نے دورہء ویسٹ انڈیز کے لیے جس سولہ رکنی سکواڈ کا اعلان کیا ہے اس میں چار نئے چہرے بھی شامل ہیں۔

default

دورہء ویسٹ انڈیز کے لیے عبدالرزاق کو ڈراپ کیا گیا ہے

رواں ماہ شروع ہونے والے دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے پاکستانی سلیکٹرز نے جو چار نئے چہرے متعارف کرائے ہیں، ان میں سے ایک لاہور سے تعلق رکھنے والے جواں سال عثمان صلاح الدین بھی ہیں۔ عثمان صلاح الدین بیس برس کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ سچن تندولکر جیسے کارنامے انجام دینا چاہتے ہیں۔

سیزن کے شروع میں عثمان صلاح الدین کی لاہور کی ٹیم میں جگہ بنتی نظر نہیں آرہی تھی تاہم انہوں نے موقع ملنے پر ملک کے سب بڑے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی میں سب سے زیادہ یعنی نو سو ستائیس رنز بنائے اوربعد ازاں لاہور کو تین عشروں بعد قومی ون ڈے ٹورنامنٹ جتوانے میں مرکزی کردار بھی ادا کیا۔

BdT Pakistan Cricket Younis Khan

سٹار کھلاڑی یونس خان کو بھی دورہ ء ویسٹ انڈیز کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا

ریڈیو ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئےعثمان صلاح الدین کا کہنا تھا کہ انہیں اتنی کم عمری میں قومی ٹیم میں آنے کی توقع نہیں تھی مگر اب وہ اسے پہلا اور آخری موقع جانتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کی کوشش کریں گے۔

عثمان کہتے ہیں کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے حوالے سے کسی دباؤ کا شکار نہیں کیونکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں انہوں نے محمد سمیع اور محمد عرفان سمیت تمام سرکردہ پاکستانی بولرز کے خلاف اچھے رنز بنائیں ہیں اور یہ کہ انہوں نے انڈر نائینٹین ٹیم میں ملک کی نمائندگی بھی کی ہے، جس کی بدولت ان کے حوصلے بلند ہیں۔

کرکٹ کا کھیل عثمان کے خون میں شامل ہے۔ ان کے والد رانا صلاح الدین نے جاوید میانداد، مدثر نذر اور قاسم عمر جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ ستر کے عشرے میں انگلینڈ کے خلاف پاکستانی انڈر نائنٹین ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ مگر اپنے والد کے مقابلے میں عثمان پربتوں کو چھونے کا ولولہ رکھتے ہیں۔

عثمان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ میں سنچری بنانے کی خواش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے میچ کو آخری میچ سمجھ کر بڑی اننگز کھیلنے کی کوشش کریں گے اور ویسٹ انڈیز جیسی بڑے نام والی ٹیم کے خلاف اگر کارکردگی دکھائیں گے تو ظاہر ہے کہ لوگ اسے سراہیں گے کیونکہ ویسٹ انڈیز کا بولنگ اٹیک اب بھی ماضی کی طرح طاقتور ہے۔

عثمان کا کہنا تھا کہ محمد یوسف ان کے پسندیدہ بیٹسمین ہیں مگران کی خواہش ہے کہ وہ سچن تندولکر کی طرح کے ریکارڈ قائم کریں، جن کے کارنامے بھارت کے لیے قابل رشک ہیں۔

عثمان صلاح الدین کے برعکس فیصل آباد کے انتیس سالہ وکٹ کیپر محمد سلمان کو پاکستانی ٹیم تک پہنچنے کے لیے پاپڑ بیلنا پڑے۔ سلمان گیارہ برس تک فرسٹ کلاس کرکٹ کی خاک چھاننے کے بعد کامران اکمل کی جگہ اب سلیکٹرز کی نظروں میں جچے ہیں۔

Kamran Akma

کامران اکمل کی جگہ اب محمد سلمان کو چانس دیا گیا ہے

محمد سلمان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہیں یقین تھا کہ ایک روز وہ ضرور ملک کی نمائندگی کریں گے۔ دس مرتبہ پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین وکٹ کیپر کا اعزاز حاصل کرنے والے سلمان کہتے ہیں کہ شروع میں وہ صرف وکٹ کیپنگ پر توجہ دیتے رہے، جس کی وجہ سے ان کی بیٹنگ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی مگر بعد میں آسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹسمین گلکرسٹ اور بھارتی کپتان دھونی کو دیکھ کر بیٹنگ میں بہتری لانے کے لیے سخت محنت کی اور گھر میں نیٹ پریکٹس کا اہتمام کیا۔ ان کے بقول انہیں اس کا خاطر خواہ فائدہ ہوا اور رواں برس بڑی ٹیموں کے خلاف انہوں نے تین متواتر سینچریاں سکور کیں۔

سلمان کہتے ہیں کہ وہ ٹاپ آرڈر میں بیٹنگ کرتے رہے ہیں مگر انہیں ٹیم کی طرف سے بیٹنگ میں جو بھی ذمہ داری ملے گی اسے خوش اسلوبی سے نبھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویسے تو انہیں پاکستان کی طرف سے موقع ملنے کا شروع سے ہی یقین تھا مگر کبھی کھبی ان کے دل میں خیال آتا تھا کہ اگر وہ انٹرنیشنل کرکٹ نہ بھی کھیل سکا تو فرسٹ کلاس اورانگلینڈ میں لیگ کھیل کراپنا شوق پورا کرتے رہیں گے۔

سلمان نے کہا کہ اسی مثبت سوچ نے انہیں منفی خیالات سے بچائے رکھا۔ سلمان نے بتایا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کا تجربہ انٹرنیشل کرکٹ میں ان کے کام آئے گا کیونکہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کا معیارکسی سے کم تر نہیں۔

رپورٹ:طارق سعید ، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس