1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوران پرواز ایرانی مسافر طیارے کا انجن زمین پر گر گیا

ایران کی ماہان ایئر کے ایک مسافر ہوائی جہاز کا انجن پرواز کے دوران ٹوٹ کر زمین پر گر گیا، جس کے بعد اس بوئنگ کو پرواز کے کچھ ہی دیر بعد ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑ گئی۔ طیارے میں سوار تین سو مسافر اور عملے کے ارکان محفوط رہے۔

تہران سے جمعرات پندرہ اکتوبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ بوئنگ 747 طرز کا یہ طیارہ ایک اندرون ملک پرواز پر ملکی دارالحکومت تہران کے مہرآباد ایئر پورٹ سے جنوبی ایرانی شہر بندر عباس کے لیے روانہ ہوا ہی تھا کہ ٹیک آف کے تھوڑی ہی دیر بعد اس ہوائی جہاز کے انجنوں میں سے ایک طیارے سے ٹوٹ کر زمین پر ایک کھیت میں جا گرا۔

اس پر پائلٹ کو طیارے کی فوراﹰ واپسی اور ہنگامی لینڈنگ کا اعلان کرنا پڑا، جس پر مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اس بھرے ہوئے ہوائی جہاز میں عملے کے ارکان کے علاوہ 300 مسافر بھی سوار تھے لیکن خوش قسمتی سے ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران کوئی بھی فرد زخمی نہ ہوا۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ایران کو اپنے ہاں مسافر پروازوں کے لیے استعمال ہونے والے ایسے طیاروں کی فوری دیکھ بھال اور مرمت کی ضرورت ہے، جن کی تعداد کم از کم بھی 140 بنتی ہے، اور جنہیں ماضی میں برسوں پہلے ایران کے خلاف لگائی گئی بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ’بہت پرانے ہو گئے فضائی بیڑے‘ کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے تہران کو گزشتہ کئی برسوں سے جہاں کئی دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہیں پر اس کے لیے ہوائی جہازوں کے اہم پرزوں کا نئے سرے سے حصول بھی بہت مشکل رہا ہے۔

Jemen Luftangriff auf dem Flughafen in Sanaa

ماہان ایئر کو اپنا فضائی بیڑہ جدید تر بنانے کی اشد ضرورت ہے

ایران کے عالمی برادری کے ساتھ تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں چودہ جولائی کو ویانا میں طے پانے والے حتمی معاہدے کے بعد اب یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران کو انٹرنیشنل برآمد کنندگان کی طرف سے اہم مشینری اور پرزوں کی فراہمی کا سلسلہ 2016ء کے اوائل سے بحال ہو جائے گا۔

شہری ہوا بازی کی ایرانی وزارت کی طرف سے اگست میں کہا گیا تھا کہ تہران اگلے چند برسوں کے دوران ہر سال 80 سے لے کر 90 تک نئے ہوائی جہاز خریدنا چاہتا ہے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک 300 ہوائی جہازوں پر مشتمل ایک بالکل نیا فضائی بیٹرہ مکمل نہ ہو جائے۔

DW.COM