1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے

فرانسیسی دارالحکومت میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد عام شہری اس حد تک عدم تحفظ اور بے یقینی کا شکار ہیں کہ پیرس کے ایک ریلوے اسٹیشن پر اتوار کے روز ایک نئے ’دہشت گردانہ‘ حملے کے خوف کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اتوار بائیس نومبر کی شام پیرس سے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ فرانسیسی دارالحکومت کا ایک بہت بڑا اور مصروف ریلوے اسٹیشن Gare du Nord کہلانے والا وہ اسٹیشن ہے جو شہر کے شمال میں واقع ہے۔ اسی شمالی ریلوے اسٹیشن پر، جہاں شہر سے گزرنے والی تقریباﹰ تمام انٹرنیشنل ٹرینیں بھی رکتی ہیں، آج اتوار کی سہ پہر وہاں موجود مسافروں اور عام شہریوں میں یکدم خوف و ہراس پھیل گیا اور انہوں نے پناہ کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگنا شروع کر دیا۔

پولیس کے ترجمان اسٹیفان بروسارڈ نے بتایا کہ چند مسافروں نے اچانک ایک عجیب سا شور سنا جو ایسا تھا جیسے کوئی زور دار پٹاخہ پھٹتا ہے۔ کہیں قریب سے ہی یکے بعد دیگرے ایسی تیز اور مسلسل آوازیں آنے پر کئی مسافروں نے سمجھا کہ اس ریلوے اسٹیشن پر فائرنگ ہونے لگی تھی اور انہوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے دوڑنا شروع کر دیا۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ کئی مسافر تو وہاں کھڑی ریل گاڑیوں سے نکل کر بھی مختلف سمتوں میں بھاگنے لگے۔

پولیس اہلکار جو پہلے ہی وہاں موجود تھے، فوراﹰ موقع پر پہنچے تو پتہ یہ چلا کہ ایک کبوتر تھا جو بجلی سے چلنے والی ریل گاڑیوں کے لیے پلیٹ فارم کے اوپر لگی بہت سی ہائی وولٹیج تاروں میں سے ایک پر بیٹھ گیا تھا۔ بجلی کی ننگی تار پر بیٹھتے ہی اس کبوتر کو انتہائی طاقتور جھٹکا لگا اور ’فائرنگ کی آواز‘ کا وقت دراصل وہی ایک دو لمحے تھے جب اس پرندے کی ننھی سی جان جل کر بھسم ہو گئی۔

Frankreich Saint Denis Polizei Absperrung Terrorismus

پیرس حملوں کا مشتبہ ماسٹر مائنڈ عبدالحمید اباعود گزشتہ بدھ پیرس میں پولیس اور فوج کے ایک بڑے آپریشن میں دو دیگر شدت پسندوں کے ساتھ مارا گیا تھا

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ معمولی سا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیرس کے شہری ان دنوں ذہنی طور پر کتنے نروس اور دباؤ میں ہیں۔ بعد ازاں اس واقعے کی وہاں موجود افراد نے تفصیلات فی الفور سوشل میڈیا پر بھی شیئر کرنا شروع کر دیں۔

پیرس میں تیرہ نومبر کی رات کئی مقامات پر بیک وقت کیے گئے متعدد دہشت گردانہ حملوں میں، جن میں خود کش دھماکے بھی شامل تھے، کم از کم 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان واقعات کے بعد سے جرمنی، بیلجیم اور فرانس سمیت کئی یورپی ملکوں میں سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کیے جا چکے ہیں جبکہ برسلز کا پورا شہر دو دنوں سے بند ہے۔

DW.COM