’دوحہ کانفرنس‘ جائز مطالبات سے آگاہ کرنے کا موقع ہے، طالبان | حالات حاضرہ | DW | 22.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’دوحہ کانفرنس‘ جائز مطالبات سے آگاہ کرنے کا موقع ہے، طالبان

افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک انٹرنیشل کرائسس گروپ کی جانب سے قطر میں کرائے جانے والے مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ اس اجلاس کے مقاصد ميں افغانستان میں جنگ کا خاتمہ اور دیرپا امن کا قیام شامل ہيں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق افغان طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس تنظیم کے سیاسی دفتر کے نمائندے قطر کے دارالحکومت دوہا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس ’Pugwash ‘ کانفرنس آن سائنس اينڈ ورلڈ افیئرس کے ایماء پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس گروپ کو تنازعات کے حل کے سلسلے میں اس کی خدمات پر امن کا نوبل انعام بھی دیا جا چکا ہے۔ تاہم یہ اجلاس باقاعدہ ان کوششوں کا حصہ نہیں ہے، جو ابھی حال ہی میں افغانستان میں امن کے لیے دوبارہ سے شروع کی گئی ہیں۔ امن مذاکرات جولائی میں اس وقت منقطع کر دیے گئے تھے، جب کابل حکومت نے طالبان کے سابق امیر ملا عمر کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان، افغانستان، چین اور امریکا بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کی بات چیت کا اگلا دور چھ فروری کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ ملاقات میں طالبان کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ تاہم اس دوران کابل حکومت اور اس شدت پسند گروپ کے مابین براہ راست مذاکرات کرانے کی راہ ہمورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

طالبان نے اپنے بیان میں کہا ’’اسلامی امارات افغانستان (طالبان) پگ واش ادارے کی اس کوشش سے مثبت فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہ اس دوران اپنے جائز مطالبات اور اپنی پالیسیوں سے دنیا کو آگاہ کریں گے۔‘‘ اس کانفرنس میں خالصتاً علمی اور تحقیقاتی امور پر مبنی بحث و مباحثے ہوں گے۔‘‘

دوسری جانب افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا کہ ان کی حکومت کا کوئی بھی نمائندہ دوحہ اجلاس میں شریک نہیں ہو گا۔ ابھی گزشتہ برس بھی اسی ادارے نے اسی نوعیت کا اجلاس منعقد کرایا تھا ، جس میں کابل حکومت کے کچھ اہلکار حکومتی نمائندے کی بجائے اپنی ذاتی نوعیت میں شریک ہوئے تھے۔