1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوحہ میں عرب لیگ کا اجلاس شروع

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عرب لیگ کا دو روزہ اجلاس پیر کو شروع ہو چکا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں عرب ممالک کے باہمی تعلقات، غزہ پٹی کا بحران اور سوڈانی صدر کے خلاف عالمی عدالت کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری بھی شامل ہیں۔

default

سوڈانی صدر کی دوحہ آمد کے موقع پر استقبال کا منظر

عرب لیگ کے اس اجلاس میں 22 رکن ممالک میں سے 17 کے سربراہان مملکت شریک ہیں، لیکن سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کی شرکت اور مصر ی صدر حسنی مبارک کی غیرموجودگی ایسے حقائق ہیں جنہیں ہر کوئی محسوس کررہا ہے۔

خبرایجنسیوں کے مطابق حسنی مبارک کو اس اجلاس میں غزہ پٹی کے بحران کے حوالے سے شرکاء کی طرف سے شدید نوعیت کے مصر مخالف طرز عمل کا خدشہ تھا۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعات کے حل کے لئے عرب ممالک آپس میں بھی اختلاف رائے کا شکار ہیں کیونکہ اگر قاہرہ اور ریاض کی طرف سے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کی حمایت کی جاتی ہے تو دمشق اور دوہا حکومتوں کا جھکاؤ محمود عباس کی حریف حماس تحریک کی طرف ہے۔

سوڈانی صدر البشیر کی دوحہ اجلاس میں شرکت اس لئے اہم سمجھی جارہی ہے کہ دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC نے مارچ کے شروع میں جنگی جرائم کے الزام میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے تھے جنہیں خود سوڈانی صدر نے مسترد کر دیا تھا۔

Gipfel der arabischen Liga in Doha Katar

شام کے صدر بشار السد اجلاس کے افتتاحی خطاب کے دوران

صدر عمر البشیر کے ایک مشیر مصطفیٰ عثمان اسمٰعیل نے دوہا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ICC پر کڑی تنقید کی اور کہا : ’’یہ عدالت محض سوڈان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس کے اہلکار فلسطین کے لئے تو کچھ نہیں کر رہے۔ لبنان کے لئے بھی کچھ نہیں کر رہے، توپھر سوڈان ہی کیوں؟ اس لئے ہم عرب لیگ سے توقع رکھتے ہیں وہ بھی سوڈانی صدر کے خلاف جاری کردہ گرفتاری کے احکامات کو مسترد کرے۔‘‘

دوحہ میں صدر عمرالبشیر کی موجودگی کے باوجود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔ عرب وزرائے خارجہ نے ابھی ہفتے کے روز ہی ایک اعلامئے کا مسودہ منظور کیا تھا جس میں دی ہیگ کی عدالت پر سوڈانی رہنما کے خلاف کارروائی بند کرنے کے لئے زور دیا گیا تھا۔ اعلامئے کی مجوزہ دستاویز کے مطابق، عرب ممالک کو بھی عمر البشیر کے خلاف عالمی عدالت کے احکامات کو مسترد کردینا چاہیئے۔

عرب لیگ کے دوروزہ اجلاس کے ایجنڈے میں دیگر موضوعات کے علاوہ دسمبر میں غزہ پٹی پر کئے گئے اسرائیلی حملوں پر بھی بحث ہوگی۔

خبررساں ادارے AFP نے عرب لیگ کے اسی اجلاس کے حوالے سے لکھا ہے کہ دوہا میں عرب رہنما ایک ایسی قرارداد کی منظوری بھی دیں گے جس میں عرب دُنیا کو درپیش داخلی اختلافات کو مذاکرات اور مشاورت سے حل کرنے کے لئے کہا جائے گا۔