1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دوحہ میں سماعت: پاکستانی کرکٹرز کا معاملہ ہنوز معلق

کرکٹ کے کھیل کے نگران عالمی ادارے کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے پرانے شیڈول کے تحت تین پاکستانی کرکٹرز کے خلاف اپنی سماعت مکمل تو کر لی ہے تاہم مزید عدالتی کارروائی پانچ فروری تک کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے۔

default

پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے سلسلے میں قائم اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے منگل کے سہ پہر تک شیڈول عدالتی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ ایسے امکانات تھے کہ منگل کی شام تک ٹریبیونل اپنا فیصلہ عام کر دے گا لیکن بعد ازاں اس ٹریبیونل نے اپنی کارروائی پانچ فروری تک ملتوی کر دی۔ سماعت ملتوی کرنے کے حکم میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کرکٹرز کے خلاف کوئی فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ بلکہ عدالتی سماعت جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پانچ فروری تک ٹریبیونل کے ارکان شہادتوں اور وکلاء کی بحث کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ سنا دیں گے۔

Pakistan Cricket Manipulation Mohammad Asif

محمد آصف

تینوں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف تین رکنی ٹریبیونل کی کارروائی گزشتہ ہفتہ جمعرات کو شروع ہوئی تھی۔ اس عدالتی کمیشن کے سربراہ انگریز قانون دان مائیکل بیلوف ہیں۔ ٹریبیونل دوحہ شہر کے قطر فنانشل سینٹر میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں کھلاڑیوں سے متعلق بے شمار شواہد پیش کیے گئے۔ ان شہادتوں کے وزن کا اعتراف پابندی کے دائرے میں آئے ہوئے تیز بالر محمد آصف نے بھی کیا ہے۔

التواء کے حوالے سے مائیکل بیلوف کے بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ ٹریبیونل اپنی کارروائی کے دوران اس مقدمے کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھا کیونکہ اس کا اثر مجموعی طور پر کرکٹ کے کھیل پر ہو گا۔ بیلوف کے مطابق الزامات کے حوالے سے کسی بھی فیصلے سے قبل انتہائی محتاط مشورت کی ضرورت ابھی باقی ہے اور تحریری فیصلہ اس کے بعد ہی سامنے لایا جا سکتا ہے۔ بیلوف کا مزید کہنا ہے کہ تینوں کرکٹرز پر لگائے گئے الزامات کے تناظر میں جمعرات سے شروع ہونے والی کارروائی کے دوران کسی فیصلے پر پہنچنا خاصا مشکل تھا۔ مائیکل بیلوف نے اس موقع پر میڈیا کو بتایا کہ ان کی سوجی ہوئی آنکھوں سے واضح ہے کہ وہ اس سماعت کے دوران پوری طرح سونے سے قاصر رہے۔

Sharad Pawar Shashank Manohar BCCI

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر شرد پوار

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے مقرر کردہ اینٹی کرپشن ٹریبیونل کی جانب سے التواء کے فیصلے پر سابقہ پاکستانی کھلاڑیوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کھلاڑیوں نے فیصلے کا اعلان نہ کیے جانے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب تینوں کرکٹرز کی جانب سے امید کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سلمان بٹ پر بوجھ بڑھ گیا ہے کیونکہ محمد آصف اور محمد عامر نے نو بال پھینکے جانے کی ذمہ داری کپتان پر عائد کی ہے۔

تین پاکستانی کرکٹرز گزشتہ سال سے عارضی طور پر ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے سے منع کیے جا چکے ہیں۔ ان کھلاڑیوں سے متعلق اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل انگریز کرکٹ ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران ایک ایجنٹ مظہر مجید کے ذریعے سامنے آیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس