1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دوبارہ صدارتی انتخابات کا مقصد رابرٹ مگابے کو جتوانا ہے: زمبابوے کی حذبِ اختلاف

اس بات سے قطع نظر کہ زمبابوے کے صدارتی انتخابات میں حتمی فاتح کے روپ میں صدر رابرٹ مگابے سامنے آتے ہیں یا پھر حذبِ اختلاف کے رہنما سوانگیری، یا پھر کہ زمبابوے کے صدارتی انتخابات کا حشر بھی وہی ہوتا ہے جو کہ کینیا یا دیگر بد حال افریقی ممالک کا جو ایک تنازعے سے نکل کر دوسرے میں داخل ہو جاتے ہیں، یہ بات اب یقیناً واضح ہو چکی ہے کہ تین دہائیوں سے زمبابوے پر حکومت کرنے والے چوراسی سالہ رابرٹ مگابے ایک کم زور ترین سطح پر

default

کھڑے ہیں۔


غیر سرکاری تنظیم زمبابوے کرائسس کولیشن سے تعلق رکھنے والی ایلینور سزولو کا کہنا ہے کہ زانو پی ایف کے ناقابلِ شکست ہونے کی قلعی کھل گئی ہے۔ وہ اب اقتدار سے باہر جانے کا راستہ دیکھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اُس کے جانے کا عمل کتنا طویل اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔


زمبابوے کے عوام کو بھی یہی خدشہ لاحق ہے۔ زمبابوے کی آزادی کے ہیرو اور مغرب مخالف رابرٹ مگابے کی اقتدار سے بے دخلی میں کتنی جانیں ضائع ہوں گی اور یہ کہ آیا کہ مگابے آسانی سے شکست قبول کریں گے یا نہیں۔


انتخابات کے دس روز بعد یہ بات اب واضح ہوتی جا رہی ہے کہ رابرٹ مگابے اور ان کی جماعت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اقتدار کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت نے اسّی کے قریب حذبِ مخالف کارکنوں کو تشدّد کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ مگابے کے حامیوں نے دیہی علاقوں میں سفید فام کسانوں پر تشدّد کیا ہے او ر ان کو اپنے کھیت اور زمینیں چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔


زمبابوے کے حکمران دوبارہ صدارتی انتخابات کر وانے کے اپنے ارادے کا اظہار کر چکے ہیں۔ اپوزیشن ایسا نہیں چاہتی ہے کیوں کہ اس کو خدشہ ہے کہ نئے انتخابات میں مگابے کو ہر قیمت پر جتوایا جائے گا۔ اس کا مطالبہ ہے کہ انتخابی نتائج کا فوراً اعلان کیا جائے۔ اس حوالے سے وہ عدالت کا رخ بھی کر چکی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے الیکشن کمیشن کے کئی کارکنوں کو اس الزام کے تحت گرفتار کر لیا ہےکہ انہوں نے رابرٹ مگابے کو ہرانے کی غرض سے ووٹوں کی گنتی میں گھپلا کیا۔


اس کے باوجود افریقی یونین کے مرکزی مصالحت کارتھابو ایم بیکی کا کہنا ہے کہ انتخابات کا انعقاد بہت احسن طریقے سے ہوا ہے۔


دوسری جانب ایسے ادارے اور افراد بھی ہیں جو زمبابوے کے حالیہ تنازعے کو شخصیات کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔