1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

دوائیوں کا باغ

آسٹریلوی سائنسدان جنیتیاتی طور پر تبدیل شدہ ایسے پودے تیار کر رہے ہیں جن میں زندگی بچانے والی ادویات کے خواص موجود ہوں گے۔

یہ پودے جان لیوا بیماریاں مثلاﹰ کینسر، ذیابیطس، دل کے امراض اور ایچ آئی وی وغیرہ کا بھی علاج ثابت ہو سکیں گے۔

کوئنزلینڈ یونیورسٹی کے ڈیوڈ کریک اور لا ٹروب یونیورسٹی کی ماہر میریلین اینڈرسن کے مطابق یہ ’بائیو ڈرگس‘ قیمت میں کم مگر زیادہ مؤثر ہوں گی۔ اس کے علاوہ ان کے عام فارماسیوٹیکل ادویات کی نسبت سائیڈ ایفکٹس بھی کم ہوں گے۔ کریک کا اے بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارا کام پیپٹائڈز کا پتہ لگانا ہے جو پودوں میں منی پروٹینز ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کو اس طرح سے دوبارہ ڈیزائن کرنا کہ یہ نیکسٹ جنریشن ڈرگز کا کام کر سکیں۔‘‘

کریک کا مزید کہنا تھا، ’’مثال کے طور پر ہمارے پاس پراسٹیٹ کینسر کی دوا کا علاج ہے جو ہم سورج مکھی کے بیجوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کو لازمی طور پر گولیاں اور کیپسول نہیں پھانکنا پڑیں گے بلکہ پروسٹیٹ کینسر کا علاج ان کی روزانہ خوراک کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔۔۔ اس طرح ادویات مریض کے جسم تک پہچانے کے لیے ممکنات کی ایک نئی دنیا کھُل جائے گی۔‘‘

ڈیوڈ کریک کے مطابق پودوں کے ذریعے ادویات کا بہت زیادہ فائدہ ترقی پذیر دنیا کو پہنچے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ تنزانیہ میں اس وقت اوسط عمر 40 برس ہے جس کی وجہ ایچ آئی اے وی اور ایڈز ہے، ’’اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس اچھی ادویات نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ لوگ انہیں خرید نہیں سکتے۔‘‘

سائنسدانوں کے مطابق پراسٹیٹ کینسر کی دوا سورج مکھی کے بیجوں میں شامل کی جا سکتی ہے

سائنسدانوں کے مطابق پراسٹیٹ کینسر کی دوا سورج مکھی کے بیجوں میں شامل کی جا سکتی ہے

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ ایک ایسا پودا تیار کر سکیں گے جس میں ایچ آئی وی کے انسداد کی بائیو ڈرگ موجود ہو گی۔ لوگ اس پودے کو اپنے باغات میں اُگا سکیں گے اور اس سے چائے بنا کر پی سکیں گے۔ کریک کے مطابق یہ ایک ایسی چیز ہو گی جو افریقہ میں ایچ آئی وی کے علاج میں انقلاب برپا کر دے گی۔

میریلین اینڈرسن کا کہنا ہے، ’’اگر تھیوری حقیقت بن جاتی ہے تو لوگ اپنی ادویات خود اُگا سکیں گے۔ اور اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کو انہیں ریفریجریٹر میں محفوظ کر کے نہیں رکھنا پڑے گا اور نہ آپ کو انجکشن کے ذریعے انہیں جسم میں منتقل کرنا پڑے گا اس کے علاوہ انہیں آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے گا۔‘‘

ڈی پی اے کے مطابق ان بائیو ڈرگس کے انسانوں پر آزمائش کا عمل آئندہ 10 برسوں کے اندر اندر شروع ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلے مرحلے میں کینسر اور تکلیف سے نجات دلانے والی ادویات کی آزمائشیں کی جائیں گی۔