1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کے پانچویں امیر ترین ملک کی عوام میں بڑھتی ہوئی غربت

یورپی ملک جرمنی کا شمار دنیا کے پانچویں امیر ترین ملک میں ہوتا ہے۔ 2009ء کے اقتصادی بحران کے آغاز سے لے کر اب تک اس ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں ایک ٹریلین یورو کا اضافہ ہو چُکا۔

دوسری جانب یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ جرمنی میں روز بروز عوام کا ایک طبقہ اقتصادی خوشحالی سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ سماجی مساوات اور خوشحالی کے لیے سرگرم جرمن انجمن کے مینیجنگ ڈائریکٹر اُلرش شنائڈر نے نئی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں انہوں نے جرمنی میں بڑھتی ہوئی غربت کی نشاندہی کی ہے۔

یہ رپورٹ 2014ء میں کروائے جانے والے ایک مائیکرو سینسز یا مختصر مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جرمنی میں بڑھتی ہوئی غربت کا سب سے زیادہ شکار بچوں کی تنہا پرورش کرنے والے افراد، بے روزگار اور پینشن یافتہ ملازمین ہیں۔ 2014ء گرچہ اقتصادی نموں کے اعتبار سے جرمنی کے لیے بہت اچھا سال ثابت ہوا تھا تاہم اس کے اثرات غربت کی شرح میں کسی خاطر خواہ کمی کا سبب نہیں بن سکے اور 2003ء کے مقابلے میں غربت کی شرح میں محض 0,1 فیصد کمی آئی۔

Deutschland Armuts- und Reichtumsbericht

غربت کے شکار افراد کا تعلق زیادہ تر تارکین وطن گھرانوں سے ہوتا ہے

مجموعی طور پر 15 فیصد سے زائد جرمن عوام کا شمار غربت کے شکار طبقے میں ہوتا ہے۔ یورپی سطح پر ان اعداد و شمار کے لحاظ سے جرمنی درمیانی پوزیشن پر ہے۔ دنیا کے دیگر نام نہاد مطلق غریب ممالک، جہاں انسانوں کی بقا کو خطرات لاحق ہیں، انہیں سر چھپانے کو جگہ اور پیٹ بھرنے کو غذا میسر نہیں، کے مقابلے میں جرمنی میں پائی جانے والی غربت کو ’آمدن کی غربت‘ کہا جا سکتا ہے۔

یورپی یونین کے معیارات کے مطابق اس غربت کا شکار وہ تمام لوگ ہیں جن کی آمدن متوسط آمدنی کے 60 فیصد سے کم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جرمنی میں اس وقت بچے کی تنہا نگہداشت کرنے والی ایک خاتون کو 1192 یورو میں گزارا کرنا ہوتا ہے۔

Deutschland Karlsruhe Beiertheimer Tafel-Laden

مفت کھانا تقسیم کرنے والے مرکز کے باہر لوگوں کی قطار

گزشتہ برسوں کے دوران پینشن یافتہ افراد میں غربت کے خطرات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور سے مغربی جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی ’رور ویلی‘ میں ایسے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہاں غربت کے شکار پینشنرز کی شرح 20 فیصد ہے۔

بہبود اطفال کے جرمن ادارے ’کنڈر ہلفس ورک‘ DKHW نے جرمنی میں بچوں کی سماجی نشوو نما کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کو ناکافی اور غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے معاشرتی سرگرمیوں میں بچوں کے لیے غیر مساوی مواقع کی نشاندہی کی ہے۔ اس ادارے کے صدر تھوماس کرؤگر نے کہا ہے کہ تنہا نگہداشت کرنے والوں، متعدد بچوں پر مشتمل خاندانوں اور تارکین وطن گھرانوں میں غربت کی شرح قریب 19 فیصد ہے۔

واضح رہے کہ 2014ء میں جمع کیے گئے یہ اعداد و شمار جرمنی میں مہاجرین کے سیلاب آنے سے پہلے کے ہیں۔

DW.COM