1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کے امیر ترین افراد کا تعلق سوئٹزرلینڈ سے

ایک رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہری دنیا بھر میں اوسطاً سب سے زیادہ دولتمند ہیں۔ یہ انکشاف سالانہ عالمی ویلتھ رپورٹ سے ہوا ہے۔

گلوبل ویلتھ رپورٹ کو کریڈٹ سوئس نامی بینک نے مرتب کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے باشندے گزشتہ 16 سالوں سے مسلسل دنیا کے دولتمند ترین لوگوں کی فہرست میں سب سے اوپر چلے آ  رہے ہیں ۔ اس ملک کے عام بالغ شخص کے پاس اوسطاً نصف ملین ڈالر سے زائد کا سرمایہ موجود ہے لیکن یہ افراد دنیا کے ’سپر رِچ‘ کہلانے والے یا امیر ترین افراد کی گروپ میں شامل نہیں ہیں ہے۔

یہ بھی واضح کیا گیا کہ اِس ملک کے شہری کم سے کم مقروض ہونے کی وجہ سے خاصے آسودہ حال ہیں۔ امارت کا یہ تناسب مجموعی آبادی کی شرح کے مطابق ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے بعد زیادہ دولت رکھنے والے  لوگوں کا ملک امریکا ہے تاہم یہاں کی اوسط امارت سوئس باشندوں سے خاصی کم ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے بین الاقوامی بینک کی رپورٹ کے مطابق اوسطاً ایک امریکی بالغ فرد ساڑھے تین لاکھ ڈالر کا سرمایہ رکھتا ہے۔ عام لوگوں کے پاس جمع دولت کے حوالے سے جو تخمینہ لگایا گیا ہے، اُس کے مطابق ایک بالغ امریکی سوئٹزرلینڈ کے شہری کے مقابلے میں تقریباً دولاکھ ڈالر سےکم کا حامل ہے۔

Schweiz Bank Credit Suisse (picture-alliance/dpa)

عالمی گلوبل ویلتھ رپورٹ کریڈٹ سوئس بینک نے جاری کی ہے

گلوبل ویلتھ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اوسط شہریوں کی امارت کے عالمی انڈیکس میں برطانیہ تیسری پوزیشن پر ہے۔ اس ملک میں اوسطاً بالغ افراد دو لاکھ نوے ہزار ڈالر کے قریب دولت کے مالک ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق بریگزٹ کے ریفرنڈم کے بعد پاؤنڈ کی قدر میں جو کمی واقع ہوئی، اِس کی وجہ سے برطانوی عوام کو 1.5 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

سوئس بینک کریڈٹ سوئس نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ اس ڈیٹا کی تدوین قطعی طور پر اپنے وسائل سے مکمل کی گئی ہے۔ سن 2008  کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد دنیا بھر کے بالغ افراد کی اوسط ملکیتی دولت  اٹھاون ہزار ڈالر کے قریب ہوگئی ہے اور اس میں اضافے کی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ رپورٹ کے مطابق جہاں یہ دولت بڑھنے کا عمل رکا ہوا ہے وہاں لوگوں کے گھروں میں موجود سامان میں اضافہ ضرور ہوا ہے اور یہ اضافہ انتہائی حوصلہ بخش قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جرمنی سمیت کئی ملکوں میں لوگوں نے اپنی ریئل اسٹیٹ کی قیمتوں کو بھی اپنی نجی دولت کا حصہ بنالیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ دنیا کے انتہائی امیر کبیر افراد میں اضافے کی شرح تین فیصد ہے اور اس کی وجہ بعض ایشیائی ملکوں کی اقتصادی میدان میں مالی کامیابیاں ہیں۔