1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

دنیا کی وزنی ترین خاتون کی ’ویٹ لاس‘ سرجری کے لیے بھارت روانگی

مبینہ طور پر دنیا کی سب سے وزنی خاتون جن کا تعلق مصر سے ہے ، آپریشن کے ذریعے وزن کم کرنے کی غرض سے آئندہ ہفتے بھارت جائیں گی۔ بھارتی وزیرِ خارجہ نے اِن خاتون کو ویزا جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Screenshot Twitter schwerste Frau der Welt aus Ägypten (twitter.com/datboyjerry)

العبدالآتی کے رشتہ داروں نے بتایا کہ بچپن میں اُن کی بیٹی کو ’فیل پا‘ یا ایلیفانٹی آسس‘ نامی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی

بھارتی سرجن مفضّل لکڈوالہ نے پانچ سو کلو گرام وزنی ایمان احمد العبدالآتی نامی اِس مصری خاتون کو سرجری کی سہولیات مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ایمان احمد نے بھارتی ویزے کے حصول کی درخواست دی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ تب اُنہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو مدد کی اپیل کی۔

ایمان احمد العبدالآتی کے سرجن کا کہنا تھا، ’’ایمان کو متعدد بیماریاں لاحق ہیں اور اُنہیں فوری طور پر سرجری کی ضرورت ہے۔ اُس کی بہن نے مجھے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ پچیس سالوں سے اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ تب میں نے سوچا کہ مجھے اُن کی مدد کرنی ہے۔‘‘

لکڈوالہ کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت حیران رہ گئے جب بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے جو خود بھی جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں اور اسپتال میں داخل ہیں، چند گھنٹوں کے اندر ایمان احمد عبدل کی درخواست کا جواب دیا۔ العبدالآتی کی بہن نے سرجن لکڈوالہ کو دو ماہ پہلے رابطہ کر کے بتایا تھا کہ اُن کی بہن کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔

العبدالآتی کے رشتہ داروں نے بتایا کہ بچپن میں اُن کی بیٹی کو ’فیل پا‘ یا ایلیفانٹی آسس‘ نامی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ دراصل ایک ایسی حالت کا نام ہے جس میں پیر اور جسم کے باقی اعضاء سوج کر پھیل جاتے ہیں اور مریض کی نقل و حرکت مفقود ہو جاتی ہے۔

العبدالآتی اس وقت ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور بے خوابی کے امراض میں مبتلا ہیں۔ لکڈوالہ کے مطابق العبدالآتی کو آپریشن کے بعد مصر میں اپنے گھر جانے سے قبل دیکھ بھال کے لیےکم از کم دو ماہ تک بھارت میں ہی رہنا ہو گا۔ باریاٹرک سرجری میں معدے کو چھوٹا کیا جاتا ہے اور اس عمل سے ایسے افراد گزرتے ہیں جو زیادہ مقدار میں وزن کم کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت میں ایسی سرجری تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

DW.COM