1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کی مسلم آبادی کا تازہ جائزہ

دنیا بھر میں مذاہب اور عوامی زندگی پر نظر رکھنے والے ادارے The Pew فورم کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان، انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا۔

default

2030ء تک دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ 2 اعشاریہ 2 ارب لگایا گیا ہے، جو کہ اس وقت 1.6 ارب ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر کی موجودہ آبادی کا 23.4 فیصد مسلمان ہیں جو اگلے بیس سال میں 26 فیصد سے تجاوز کر جائیں گے۔

اس وقت مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد جنوب مشرقی ایشیائی ریاست انڈونیشیا میں بستی ہے۔ اگلے بیس سال میں یہ اعزاز پاکستان کو منتقل ہوجائے گا جبکہ بھارت، مسلم آبادی کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگلی دو دہائیوں میں مسلم ممالک میں شرح پیدائش کا نمو، ماضی کے مقابلے میں قدرے کم رہے گا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 1990ء تا 2010ء جو شرح 2.2 فیصد تھی اگلے بیس سال میں یہ شرح 1.5 فیصد رہے گی۔

Eid-al-Fitr in Indien

ایک بھارتی شہری نئی دہلی کے بازار میں عید کے تحائف فروخت کرتے ہوئے، فائل فوٹو

اس رپورٹ کا نام The Future of Global Muslim Population رکھا گیا ہے۔ The Pew فورم سے وابستہ ایلن کوپرمین نے ان دعووں کو رد کیا کہ یورپ میں مسلمان تارکین وطن کی کثرت سے اسلام وہاں کی اکثریت کا مذہب بن جائے گا۔

ان کے بقول بعض یورپی ریاستوں میں مسلمان آبادی کا تناسب 10 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا لگ بھگ 60 فیصد ایشیا پیسیفک میں، 20 فیصد مشرق وسطیٰ، 17 فیصد سب سہارا اور افریقہ، دو فیصد یورپ اور اعشاریہ پانچ فیصد امریکہ میں رہے گا۔

یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں بستے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق شمالی افریقہ کی مسلم ریاستوں اور ترکی سے ہے۔ اگلے بیس سال میں فرانس میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد 6.9 ملین، برطانیہ میں 5 اعشاریہ 6 ملین، جرمنی میں 5 اعشاریہ پانچ ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بڑھ کر مجموعی آبادی کے ایک اعشاریہ سات فیصد تک پہنچ جائے گا۔ اس تناسب سے وہاں مسلمانوں، یہودیوں اور ہسپانوی نژاد شہریوں کی آبادی کا تناسب برابر ہوجائے گا۔

BdT Fest des Fastenbrechens Zuckerfest Eid al Fitr

انڈونیشیا میں مسلمان خواتین نماز عید کی ادائیگی کے موقع پر، فائل فوٹو

اس رپورٹ سے ایک اور دلچسپ حقیقت کا پتہ چلا ہے، جس کے مطابق دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

اس رپورٹ میں دیگر مذاہب سے وابستہ افراد کی آبادی کے متعلق تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ امریکہ میں قائم The Pew فورم نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں مسیحی، ہندو، بدھ مت، سکھ اور یہودی مذہب سے وابستہ افراد سے متعلق بھی اعداد و شمار عام کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے مسلم ممالک میں شرح تعلیم بڑھ رہی ہے وہاں شرح پیدائش میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ عالمی طور پر دیگر مذاہب کے مقابلے میں پھر بھی مسلمانوں کی بلند شرح پیدائش متوقع ہے۔ اس اعتبار سے آنے والے بیس سالوں میں غیر مسلم آبادی میں سالانہ نمو کا اندازہ اعشاریہ سات فیصد جبکہ مسلم آبادی میں نمو کا اندازہ ایک اعشاریہ پانچ فیصد لگایا گیا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM