1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کی عمر رسیدہ ترین خاتون کی رحلت

برازیل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جو کہ دنیا میں سب سے طویل العمر انسان کے طور پر تسلیم کی گئی تھیں، 114 سال کی عمر میں رحلت کر گئی ہیں۔

default

ماریا گومیز والنٹیم

برازیل سے تعلق رکھنے والی ماریا گومیز والنٹیم (Maria Gomes Valentim) نامی خاتون نے 114 سال اور 347 دن کی عمر میں انتقال کیا۔ عالمی ریکارڈز کی نگرانی کرنے والے ادارے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اس برازیلی خاتون کو سب سے زیادہ عمر رکھنے کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا تھا۔ وہ ساری دنیا میں تیس تصدیق شدہ انسانوں کی فہرست میں ٹاپ پر تھیں جن کی عمریں سو سال سے زائد ہیں۔

ماریا گومیز والنٹیم کی رحلت کی خبر مقامی میڈیا نے جاری کی تھی۔

BdT Ältester Mensch der Welt im Alter von 116 Jahren gestorben

ایک سو سولہ سال کی عمر میں رحلت پانے والے مرد: فائل فوٹو

ایک سو سال سے زائد عمر رکھنے والی خاتون تمام زندگی برازیلی صوبے Minas Gerais کے شہر Carangola میں مقیم رہیں۔ اسی شہر میں وہ پیدا ہوئی تھیں۔ سن 1913 میں ان کی شادی ہوئی تھی۔ وہ 1946 میں بیوہ ہو گئیں۔ ان کی اولاد فقط ایک بیٹا تھا اور وہ پچھتر سال کی عمر میں فوت ہوا۔ ان کے چار پوتے پوتیوں کی بھی اولادیں ہیں۔ ان کی کل تعداد سولہ بنتی ہے۔ آخری عمر میں وہ وہیل چیئر کی محتاج ہو گئی تھیں۔

انہوں نے اپنی طویل عمرکے دوران صحت بخش خوراک کا باقاعدہ استعمال کیا۔ عام لوگوں اور اولاد کو بھی ایسی خوراک کھانے کی تلقین کیا کرتی تھیں۔

پچھلے اتوار کو انہیں نمونیے کے اٹیک کے بعد ہسپتال داخل کروایا گیا تھا۔ اکیس جون کے روز وہ مختلف جسمانی اعضاء کے فیل ہونے کی وجہ سے فوت ہوئیں۔

ان کو دنیا کی طویل ترین عمر کی حامل خاتون کا سرٹیفیکیٹ اٹھارہ مئی سن دو ہزار گیارہ کو جاری کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت دنیا کی زندہ طویل العمر انسان قرار دی گئی تھی، جب چار نومبر سن 2010 کو فرانسیسی خاتون Anne Eugénie Blanchard فوت ہوئی تھیں۔ یہ فرانسیسی خاتون کی رحلت کے وقت 114 برس کی تھیں۔ فرانس کی سو سال سے زائد عمر کی خاتون کے انتقال پر برازیل سے تعلق رکھنے والی ماریا گومیز کی عمر 114 سال اور 118 دن تھی۔ اب ماریا گومیز کی رحلت کے بعد ایک امریکن خاتون بیسی کوپر دنیا کی سب سے زیادہ عمر والی زندہ خاتون ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس