1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دنیا کی طویل ترین سرنگ کی تعمیر میں اہم پیش رفت

سوئٹزرلینڈ میں دُنیا کی طویل ترین سرنگ کی تعمیر کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کے راستے میں الپس کے کوہستانی سلسلے کی آخری پہاڑی سے بھی راستہ نکال لیا گیا ہے۔

default

اس سرنگ پر کام گزشتہ 15 برس سے جاری ہے۔ جمعہ کو وہاں ایک دیوہیکل ڈرِل مشین نے راستہ بنایا تو یہ منظر دیکھنے کے لئے تقریباﹰ 200 اہم شخصیات موجود تھیں جبکہ اس تقریب کو سوئس ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کیا گیا۔

Hauptdurchschlag am Gotthard

اس سرنگ پر تقریباﹰ دس ارب ڈالر کی لاگت آئی

اس موقع پر سوئٹزرلینڈکے وزیر ٹرانسپورٹ مورِٹز لیوین بیرگر نے کہا، ’یہاں، سوئس کوہ الپس یورپ کے سب سے بڑے ماحولیاتی منصوبوں میں سے ایک، حقیقت بن گیا ہے۔‘

اس سرنگ پر گزشتہ 15 برس سے جاری کام کے دوران آٹھ افراد ہلاک بھی ہوئے جنہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس مقصد کے لئے وہاں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ہلاک ہونے والوں کے نام پڑھے گئے۔

تعمیراتی کمپنی امپلینیا کے لوزی گروبیر نے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا، ’ہم نے صرف سرنگ ہی نہیں بنائی، ہم نے ایک تاریخ رقم کی ہے۔‘

اس سرنگ سے گزرنے والا 57 کلومیٹر طویل ہائی سپیڈ ریل لِنک 2017ء میں کھولا جائے گا، جس کے ساتھ شمالی اور جنوب مشرقی یورپ کے درمیان نیا ریل نیٹ ورک قائم ہو جائے گا۔ اس کی مدد سے مال بردار ٹرکوں کے بجائے ٹرین کا سلسلہ شروع ہو جائےگا اور یہ پہلو کوہ الپس پر آلودگی کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔

اس کے ذریعے اٹلی کے شہر میلان سے سفر کرنے والے تین گھنٹے میں ہی سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ پہنچ جائیں گے، جہاں سے جرمنی کے شمالی علاقوں تک بھی ایک گھنٹے کی مسافت کم ہو جائے گی۔ اس کی تکمیل پر وہاں سے یومیہ 300 ٹرینیں گزر سکیں گی، جن کی رفتار 250 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوگی۔ اس سرنگ کا قُطر ساڑھے نو میٹر ہے اور اس پر نو ارب 80 کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے۔

NO FLASH Gotthard Tunnel Durchbruch

سرنگ کی کھدائی 15 برس میں مکمل ہوئی

کوہ الپس کے برف پوش گوٹہارڈ کے علاقے میں بنائی جانے والی یہ تیسری سرنگ ہے۔ تاہم یہ وہاں کھودی جانے والی طویل ترین سرنگ ہے۔ یہ تو جاپان میں دو جزیروں کو ملانے والے 53.8 کلومیٹر زیرزمین ریل لنک سے بھی تین کلومیٹر زیادہ طویل ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس