1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کی طاقتور ترین خاتون جرمن چانسلر انگیلا میرکل

متواتر چوتھی بارخواتین کی فوربز رینکنگ لسٹ پرپہلے نمبرپرجرمن چانسلر انگیلا میرکل ہیں۔ انگیلا میرکل کو فہرست میں پہلے نمبر پر رکھنے کی وجہ جرمن معیشت کو عالمی مالیاتی بحران سے جلد باہر نکالنے میں ان کا کردار ہے۔

default

دنیا کی معروف اورطاقتور ترین خواتین کی Forbes ranking list یعنی عالمی درجہ بندی کی فہرست کی اشاعت کے ذریعے چند سالوں سے مقبول ترین عورتوں کے ناموں اوران کے کارناموں کو دنیا بھر میں جانا جانے لگا ہے۔ اس وقت خواتین کی Forbes ranking list میں سب سے اوپر نام جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا ہے۔

Bundeskanzlerin Angela Merkel

خواتین کی فوربز فہرست کی سالانہ اشاعت کا سلسلہ سن دو ہزار چار سے شروع ہوا۔ اسے نیو یارک سے شائع ہونے والے دنیا کے معروف ترین فائننشیل میگزین Forbes نے منظر عام پر لانا شروع کیا۔

وفاقی جرمن چانسلرانگیلا میرکل نے چوتھی بار Forbes میگزین کی رینکنگ لسٹ پر اپنی نمبرون پوزیشن برقراررکھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ جبکہ امریکہ کی خاتون اول میشل اوباما اورامریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے نام سن دو ہزار نو کی Forbes ranking list پرٹاپ تھرٹی یعنی شروع کے تیس ناموں میں بھی شامل نہیں ہو سکے۔ اس سال اس فہرست میں سب سے زیادہ نام بزنس ویمن کے ہیں، جن میں سے اکثریت کا تعلق امریکہ ہی سے ہے۔ انگیلا میرکل کی پہلی پوزیشن کے بعد اس لسٹ پر دوسرا نام ہے شیلا بئیرکا جو فیڈرل ڈیپوزٹ انشورنس کارپوریشن FDIC کی چیئرپرسن ہیں۔ یہ ادارہ امریکی بینکوں کو انشور کرتا ہے۔ سال رواں کی خواتین کی Forbes ranking list پرتیسرا نام ہے اندرا نوئی کا۔ یہ Pepsi کمپنی کی چیف ایگزیکٹیو ہیں۔

Angela Merkel spircht im Bundestag in Berlin

امریکی صدرباراک اوباما کی اہلیہ اورامریکہ کی خاتون اول میشل اوباما خواتین کی Forbes ranking list میں چالیسویں نمبر پر ہیں ۔ حیران کن امریہ کہ برطانیہ کی کوئن ایلیزابیتھ دوم کا نام اس فہرست میں بیالیسویں نمبرپرہے۔

نیو یارک سے شائع ہونے والے Forbes میگزین میں یورپ کی سب سے بڑی معیشت اور سیاسی طورپرایک مضبوط یورپی طاقت کی لیڈر کی حیثیت سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے کردار پر بہت تفصیل سے لکھا گیا۔ سن دو ہزار پانچ میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر بننے والی انگیلا میرکل نے عہدہ سنبھالنے کے چند ماہ کے اندر اندر نہایت خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا : ’’مجھ جیسی ایک خاتون، جس کا تعلق سابق جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک جی ڈی آر سے ہے، کے لئے دوبارہ متحد جرمنی میں چانسلر کے عہدے پر فائذ ہونا اور جرمنی کی سیاسی زندگی میں مکمل طورپرضم ہوجانا کچھ خاص مشکل نہ تھا۔ محض چند ماہ کے اندر اندر یہ سب کچھ میری روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔‘‘

انگیلا میرکل نے سابق جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک جی ڈی آر کے دور میں شہر ہمبرگ میں انیس سو چون میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر تیرویں جماعت تک میرکل نے سابق مشرقی جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر ٹمپلین میں حاصل کی ۔ نوجوانی کے دور سے ہی انہیں سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔ وہ اسٹوڈنٹس موؤمنٹس میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ اس وقت مشرقی جرمنی کے سب سے اہم، تاریخی اور ثقافتی طور پر مرکز کی حیثیت رکھنے والے شہر، لائبزگ کی مشہورزمانہ یونیورسٹی سے میرکل نے فزکس کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

Die CDU Vorsitzende Angela Merkel spricht mit Journalisten auf dem Weg zu den Gremiensitzungen der Partei am Montag, 23. Mai 2005

جس کے بعد انہوں نے فزکس کے ہی ایک نہایت اہم موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انیس سو نوے سے لے کرانیس سو اٹھانوے تک میرکل کرسچن ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو کی قائم مقام حکومتی ترجمان اورانیس سو اٹھانوے سے لے کر دو ہزارتک انگیلا میرکل سی ڈی یو کی جنرل سیکریٹری رہیں اور دو ہزارمیں انہیں کرسچن ڈیموکریٹک یونین کا صدرمنتخب کیا گیا۔ دو ہزار دو سے دو ہزار پانچ تک انگیلا میرکل وفاقی جرمن پارلیمان میں سی ڈی یو سی ایس یو کے پارلیمانی دھڑے کی سربراہی کرتی رہیں اور بالآخر نومبر دو ہزار پانج کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے انگیلا میرکل جرمنی کی چانسلر بن گئیں۔

خواتین کی Forbes ranking list میں دراصل ان خواتین کو شامل کیا جاتا ہے، جنہوں نے اقتصادی شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہو اور کامیابی حاصل کی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں میڈیا میں غیرمعمولی کوریج ملی ہو۔

رپورٹ : کشور مصطفیٰ

ادارت : امجد علی