1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

دنیا کی سب سے تیز رفتار راکٹ کار

انگلینڈ کے انجینیئرز ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت کی حامل کار کی تیاری میں مصروف ہیں، جس کا حتمی تجربہ اگلے برس متوقع ہے، جبکہ اگلے چند ماہ میں اس کار میں مستعمل راکٹ کا تجربہ عمل میں آئے گا۔

default

بلڈہونڈ میں فارمولا ون کار کا انجن اور جیٹ نصب ہے

ہائیبریڈ ٹیکنالوجی کی حامل اس بلڈہونڈ نامی راکٹ گاڑی میں فارمولا ون کار کے انجن کے ساتھ ساتھ لڑاکا جہاز کا جیٹ نصب کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ گاڑی لینڈ سپیڈ یا زمین پر رفتار کا پرانا ریکارڈ توڑ کر نئی تاریخ رقم کرے گی۔

گاڑی میں نصب راکٹ اور جیٹ اس کار کو 122 کلونیوٹن طاقت فراہم کرے گا، جس سے مقررہ رفتار حاصل کی جائے گی۔

واضح رہے کہ یہ کار ماہر طبیعات آئزک نیوٹن کے دوسرے اور تیسرے قانون حرکت کے تحت تیار کی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کار کا بنایا گیا ریکارڈ اگلے کئی برسوں تک اس میدان میں برطانیہ کی برتری قائم رکھے گا۔

BdT Essen Motor Show VW Volkswagen

اس سے قبل بھی کاروں میں جیٹ انجن نصب کر کے رفتار کا مظاہرہ کیا گیا ہے

بلڈہونگ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر رچرڈ نوبل کے مطابق یہ ایک ناقابل یقین کار ہو گی اور ان کی ٹیم ایک ایسے سفر کا آغاز کر رہی ہے، جسے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا۔

ماہرین اس راکٹ کار کی حتمی تجرباتی دوڑ کے لیے متعدد مقامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں مغربی ویلز کا Pendine نامی علاقہ اور مشرقی انگلینڈ کا Shoeburyness نامی علاقہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ دونوں علاقے برطانیہ کے فوجی مراکز ہیں۔

اس کار میں استعمال ہونے والا بلڈہونڈ نامی 45 سینٹی میٹر چوڑا اور تین اعشاریہ چھ میٹر لمبا راکٹ مکمل طور پر برطانیہ میں تیار کیا گیا ہے۔ آزمائشی طور پر اس راکٹ میں موجود ٹھوس اور مائع ایندھن 20 سیکنڈ تک انجن کو بیدار رکھے گا اور اس سے پیدا ہونے والی مجموعی طاقت 645 فیملی سیلون کاروں کے برابر ہو گی۔

ماہرین کے مطابق اس طرح یہ کار اگلے برس اپنے حتمی تجربے کے دوران ساؤنڈ بیریئر یا آواز کی رفتار کی حد توڑے گی۔

واضح رہے کہ بلڈ ہونڈ کتوں کی سب سے بڑی نسل کا نام ہے، جنہیں ابتدا میں ہرن کے شکار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، تاہم بعد میں ان کی ذہانت کی وجہ سے انہیں سلامتی کے اداروں میں خدمات کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔

رپورٹ عاطف توقیر

ادارت ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس