1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کی سب سے بڑی قتل گاہ: السلواڈور یا وینزویلا

رواں برس کے دوران وسطی امریکی ملک السلواڈور اور جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں قتل کی بےشمار وارداتیں ہوئی ہیں۔ ہزاروں قتل ہونے کے تناظر میں یہ طے ہونا باقی ہے کہ ان میں سے کونسا ملک دنیا کی سب سے بڑی قتل گاہ ہے۔

السلواڈور میں رواں برس کے دوران پرتشدد واقعات اور قتل کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ قتل کی یہ وارداتیں سن 2014 کے مقابلے میں ستر فیصد زیادہ ہیں۔ اِس باعث خیال کیا جا رہا ہے کہ رواں برس کے اختتام پر قتل کی وارداتوں میں یہ ہونڈوراس کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔ گزشتہ برسوں میں ہونڈوراس میں قتل کی بے شمار وارداتوں کے حوالے سے اِس ملک کو دنیا کی سب سے بڑی قتل گاہ تصور کیا جاتا رہا ہے۔ جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں سالِ رواں کے دوران ہونے والے قتل کے ہزاروں واقعات کے بعد یہ ملک بھی سب سے بڑی قتل گاہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

وینزویلا میں رونما ہونے والے ہزاروں قتل کی وارداتوں کے تناظر میں ایک غیرسرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ سن 2015 کے دوران اِس ملک میں اتنے قتل ہوئے ہیں کہ یہ تعداد السلواڈور اور ہونڈوراس میں وقوع پذیر ہونے والی وارداتوں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ السلواڈور کے نیشنل فورنزک انسٹیٹیوٹ کے سربراہ مِگوئل فورٹِن کا کہنا ہے کہ اِس کا قوی امکان ہے کہ رواں برس کے آخری دن تک السلواڈور میں قتل کی وارداتوں کی تعداد چھو ہزار چھ سو پچاس (6650) تک پہنچ جائے گی اور یہ گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ سن 2014 کے دوران السلواڈور میں تین ہزار نو سو بارہ (3912) انسان قتل کیے گئے تھے۔

Jugendbanden in El Salvador

جرائم پیشہ گینگ میں شامل نوعمر، جیل میں اپنے گروپ کا نشان بناتے ہوئے

السلواڈور کے نیشنل فورنزک انسٹیٹیوٹ کے سربراہ مِگوئل فورٹِن کا کہنا ہے کہ اِس ملک کی مجموعی آبادی چونسٹھ لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور قتل کی وارداتوں کا تناسب نکالیں تو یہ ایک لاکھ آبادی پر ایک سو چار قتل بنتے ہیں۔ فورٹِن کے مطابق یہ سال السلواڈور کے لیے انتہائی پرتشدد رہا ہے اور ہزاروں قتل تناسب کے اعتبار سے ہمسایہ ملک ہونڈوراس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ ہونڈوراس سن 2012 سے دنیا کی سب سے بڑی قتل گاہ تصور کی جاتی ہے۔

دوسری جانب ایک غیرسرکاری تنظیم وینزویلا وائلنس آبزرویٹری کے مطابق رواں برس کے دوران 27 ہزار 875 قتل ہوئے ہیں۔ اس طرح وینزویلا میں آبادی کے اعتبار سے ایک لاکھ افراد میں نوے قتل ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس یہی شرح بیاسی تھی۔ اِس غیرسرکاری تنظیم کے مطابق سن 1998 میں وینزویلا میں ایک لاکھ آبادی میں اوسطاً انیس قتل ریکارڈ کیے گئے تھے۔ ہونڈوراس میں گزشتہ برس قتل کی وارداتوں میں کمی بتائی گئی تھی اور یہ شرح ایک لاکھ میں ستر سے کم ہو گئی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان قتل کی وارداتوں میں بڑے جرائم پیشہ گرو شامل ہیں اور وہ ہلکے سے شبے پر بھی کسی فرد کو قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ السلواڈور میں قتل کی وارداتوں کی ایک بڑی وجہ دو جرائم پیشہ گروہوں مارا سلواتروچا اور باریو اٹھارہ کے درمیان چپقلش بتائی جاتی ہے۔