1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کی سب سے بڑی ایکسپو نمائش یکم مئی سے

آج دنیا کی نصف آبادی شہروں میں رہتی ہےاور ایک بڑا مسئلہ شہروں کےبے ہنگم پھیلاؤکو روکتے ہوئے زمین پر قدرتی وسائل کے استعمال کوبہتر اور ماحول دوست بنانا ہے۔ چین میں ایکسپو2010 نامی عالمگیر نمائش کامرکزی موضوع بھی یہی ہے۔

default

شنگھائی میں امسالہ ایکسپو نمائش کا موضوع ہوگا: ’بہتر شہر، بہترزندگی‘

چین کےشہرشنگھائی میں یکم مئی سے شروع ہونے والی عالمگیر نمائش Expo دوہزار دس کا عنوان ہے ’’بہتر شہر، بہترزندگی‘‘اور یہ نمائش ایکسپو کے سلسلے کی دنیا بھر میں آج تک کی سب سے بڑی عالمگیر نمائش ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ مختلف براعظموں اور ملکوں میں شہری آبادیوں کا بے ترتیب اورغیرمنظم پھیلاؤ قدرتی وسائل کے بےتحاشا ضیاع کا سبب بن رہا ہے۔ اسی لئے زمین کے معدنی وسائل کی دیرپا دستیابی اور اس کرہ ارض پر انسانی معاشروں کے کامیاب مستقبل کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ شہری آبادیوں کےاس پھیلاؤ یا urbanisation کو کس طرح روکا جائے۔

شنگھائی میں ہفتہ یکم مئی سے شروع ہونے والی یہ عالمگیر نمائش کل چھ ماہ تک جاری رہے گی اور اس میں 250 کے قریب ملک اور بین الاقوامی ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ اس نمائش کی تیاریوں کےحوالے سےExpo 2010 کے ایک ترجمان نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ اس نمائش کا میزبان شہرشنگھائی وہاں آنے والے لاکھوں مہمانوں کے استقبال کے لئے پوری طرح تیار ہے اور اس مقصد کے لئے پورے شہر کو حرکت میں لایا جا چکا ہے۔

Flash-Galerie Expo Shanghai 2010 Ende April

یکم مئی سے شروع ہونے والی یہ عالمگیر نمائش چھ ماہ تک جاری رہے گی

اس عالمگیر نمائش میں منتظمین، نمائش کنندگان اور مہمانوں کےدرمیان اس بارےمیں تفصیلی اور مختلف شکلوں میں مسلسل تبادلہ خیال کا پروگرام بھی بنایا گیا ہے کہ ان بڑے شہروں میں،جو ابھی تک مسلسل پھیلتے جا رہے ہیں، ٹریفک، تحفظ ماحول، روزگار کے مواقع، رہائش کی سہولتوں، توانائی کی فراہمی، کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے اور گندے پانی کے نکاس جیسے اہم مسائل کو جلد اور زیادہ مؤثر طور پر کیسے حل کیا جا سکتا ہے کہ ان شہروں کے پھیلاؤ کو زیادہ ماحول دوست اور دیرپا بنایا جا سکے۔

بچین میں اس موضوع پر امسالہ ایکسپو کے انعقاد کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اس وقت اوسطا دنیا کی مجموعی آبادی کا 55 فیصد حصہ شہری علاقوں میں رہتا ہے جبکہ چین میں یہی شرح 46 فیصد بنتی ہے۔ تاہم چین میں شہری آبادی کے پھیلاؤ کے حوالے سے یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں ہر سال 60 ملین باشندے اپنی دیہی رہائش گاہیں ترک کرکے شہری علاقوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

چین میں 170 شہرایسے ہیں جن کی آبادی ایک ملین سے زیادہ ہے۔ ان میں سے سات شہر ایسے بھی ہیں جن میں سے ہرایک کی آبادی دس ملین یا ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہی نہیں ان بہت بڑے بڑے چینی شہروں میں بھی شنگھائی کا، جو امسالہ ایکسپو کی میزبانی کر رہا ہے، اپنا ہی ایک مقام ہے۔ وجہ یہ کہ چین میں اس شہر کی آبادی 18 ملین سے زیادہ ہو چکی ہےاوراس کا شمار دنیا کے دس سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں ہوتا ہے۔

Expo Shanghai 2010 Ende April

چینی زبان میں شنگھائی شہر کے نام کا مطلب ہے’سمندر پر بنایا گیا شہر‘

ان حالات میں بڑے شہروں میں عوامی زندگی کو بہتر بنانے کے موضوع پر ایکسپو جیسی عالمگیر نمائش کے انعقاد کے لئے شنگھائی سے بہتر شہر شاید کوئی تھا ہی نہیں۔ چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ کے بقول شنگھائی کی یہ ایکسپو نمائش نہ صرف ایک یادگارعالمگیراجتماع بلکہ اس عمل کا بھی حصہ ثابت ہو گی جو انسانی تہذیب کے ارتقاء کا سبب بنتا ہے۔

شنگھائی میں چند ہی روز بعد شروع ہونے والی ایکپسو 2010 کے لئے پانچ مربع کلومیٹررقبے پرپھیلے نمائشی ہالوں کا اہتمام اس شہر میں دریائے ہوآنگ پو کے کنارے کیا گیا ہے اور اس نمائش کو روزانہ چار لاکھ مہمان دیکھ سکیں گے۔

چینی زبان میں شنگھائی شہر کے نام کا مطلب ہے’’سمندر پر بنایا گیا شہر‘‘ اور ماہرین کے بہت محتاط اندازوں کے مطابق اس نمائش کو دیکھنے کے لئے بیرون ملک سے کم ازکم بھی تین اور پانچ ملین کے درمیان مہمان اس نمائش کا رخ کریں گے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM