1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے صدور کی ملاقات

جرمن صدر یواخم گاؤک نے جنگ اور انسداد دہشت گردی کے تناظر میں جرمنی اور امریکا کے تعلقات کو مضبوط تر بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

امریکا کے دورے کے اختتام پر جرمن صدر یواخم گاؤک بُدھ کو امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کر رہے ہیں۔ گزشتہ 18 برسوں میں کسی جرمن صدر کا پہلی بار وائٹ ہاؤس میں باقاعدہ طور پر استقبال کیا جا رہا ہے۔ جرمن صدر اس موقع پر نائب امریکی صدر جو بائیڈن اور وزیر خارجہ جان کیری سے بھی ملاقات کریں گے۔ جرمنی اور امریکا کے تعلقات، شام کی صورتحال اور یورپ کو درپیش مہاجرین کے مسائل جیسے موضوعات پر جرمن صدر اور امریکی حکام کے ساتھ بات چیت متوقع ہے۔

گاؤک جرمنی کے اتحاد کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر امریکا کا دورہ کر رہے ہیں اور یہی اُن کے اس دورے کی اہم ترین بات سمجھی جا رہی ہے۔ منگل کی شام واشنگٹن پہنچنے کے بعد جرمن صدر نے آزادی کی علامت سمجھی جانے والی معروف امریکی شخصیت مارٹن لُوتھر کنگ کی یادگار میں بنائے گئے میموریل کا دورہ بھی کیا۔

بعد ازاں جرمن سفارتخانے میں منعقدہ عشائیے میں جرمنی کے اتحاد کے تناظر میں گاؤک نے امریکا، خاص طور سے اُس وقت کے امریکی صدر جارج بُش سینئر کے جرمنی کے دوبارہ اتحاد میں کردار کو سراہتے ہوئے اُن کا شکریہ ادا کیا۔ جرمن صدر کے مطابق امریکا اور امریکی سیاستدانوں نے جرمنی کے اتحاد میں فیصلہ کُن کردار ادا کیا تھا۔

Gauck in Washington

جرمن صدر واشنگٹن میں

بُدھ ہی کو جرمن صدر نے فلاڈیلفیا یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب میں بین الاقیانوسی ممالک اور نیٹو کے ساتھ جرمنی کے تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا۔ فلاڈیلفیا امریکا کا پہلا دارالحکومت بھی رہ چُکا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں برطانوی سامراج سے آزادی کا اعلان ہوا تھا اور یہیں امریکی آئین بھی تحریر کیا گیا تھا۔ گاؤک نے اپنے خطاب میں امریکا کے جمہوریت پسندانہ بنیادی دستاویزات اور جمہوری اداروں کی تعریف کی۔

اس موقع پر جرمن صدر نے امید ظاہر کی کہ امریکا مہاجرین کے موجودہ بحران میں فعال کردار ادا کرے گا۔ گاؤک کا کہنا تھا، ’’مجھے اس بات پر بہت خوشی ہو گی کہ مہاجرین کے مسئلے کو محض یورپی مسئلہ نہ سمجھا جائے۔‘‘ عراق کے بارے میں اُن کا کہنا تھا، ’’ امریکا مشرق وسطیٰ میں بہت فعال کردار ادا کرتا رہا ہے اور اسی سر زمین سے پناہ گزینوں کی بہت سی مہموں کو آغاز بھی ہوا۔‘‘

بُدھ کو یواخم گاؤک جرمن صدر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ دونوں البتہ سیاسی ہم منصب نہیں ہیں۔ ایک دنیا کی آخری بچ جانے والی سُپر پاور کا کمانڈر اِن چیف ہے جبکہ دوسرا یورپ کی سب سے مضبوط اور راہنمائی کرنے والی قوم کا رسمی قائد۔

USA Philadelphia Joachim Gauck Reise

امریکی شہر فلاڈیلفیا میں گاؤک کا والہانہ استقبال

جرمن صدر نے محض امریکا کی ستائش ہی نہیں کی بلکہ لطیف پیرائے میں انہوں نے افغانستان، این ایس اے کے کردار اور موجودہ دور کی جنگوں میں امریکی کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے یورپی اور خاص طور سے جرمنی میں امریکا کی ساکھ پر لگنے والے دھچکے کا حوالہ بھی دیا۔ یواخم گاؤک نے کہا، ’’آخر امریکی خفیہ ایجنسی کو جرمن کابینہ کے اراکین، یہاں تک کے جرمن وزیر زراعت کی ٹیلی فون کالز ریکارڈ کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی‘‘۔

جرمن صدر کا کہنا تھا، ''جرمن شہریوں کو یہ تاثر کیوں ملتا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ان کی نجی زندگیوں میں ہونے والی مداخلت جمہوری طریقوں کنٹرول نہیں کی جا سکتی؟‘‘

DW.COM