1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

دنیا کی تیز ترین ٹرین چین میں

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چین نے سپر ہائی اسپیڈ ٹرین کا آغاز کیا ہے اور یہ ٹرین 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ یہ ٹرین ایک قدیم چینی تلوار سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔

اس کے باوجود کہ چین میں ٹرینوں کے ہائی اسپیڈ نیٹ ورک کو کئی مسائل کا سامنا ہے، یہ شعبہ ترقی کرتا جا رہا ہے۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹرین ایک قدیم چینی تلوار سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے اور اسے چین میں ٹرینیں تیار کرنے والے سب سے بڑے ادارے سی ایس آر کارپوریشن لمیٹڈ کے ایک ذیلی ادارے نے تیار کیا ہے۔ نیوز ایجنسی نے ریلوے نظام کے ماہر شن یوآن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دنیا کی اس تیز ترین ٹرین سے اس نظام میں ایک خوبصورت اضافہ ہوا ہے اور اس سپر اسپیڈ ٹرین کے کامیاب تجربے سے تیز رفتار ٹرینوں کے آپریشن کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

چین میں ٹرینیں تیار کرنے والے ادارے سی ایس آر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسپیڈ کے ساتھ ساتھ یہ ٹرین اپنے مسافروں کو خوب آرام دہ سہولیات بھی فراہم کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ مستقبل میں صرف ہائی اسپیڈ ٹرینیں ہی چلائی جائیں بلکہ ان کا اصل مقصد ان کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔

China Hochgeschwindigkeitszug

یہ ٹرین 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے

ریلوے کی وزارت کا کہنا ہے کہ ٹرینوں اور مسافروں کی حفاظت کے لیے وسیع اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس میں پٹریوں کے روزانہ معائنے سمیت زلزلے کی نگرانی کا نظام بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس چین کی ریلوے کی صنعت کے لیے ایک مشکل سال تھا۔ جولائی میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے ٹکراؤ سے کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثے کے بعد چین میں ہائی اسپیڈ ٹرینوں کی تیاری تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔ چین میں ریلوے کی صنعت کی کامیابی کے پیچھے سابق وزیر ریلوے لوئی شی جوآن کا ہاتھ ہے، تاہم فروری میں اس وزیر کو کرپشن کے الزمات کے بعد مستعفی ہونا پڑا تھا۔

دنیا میں بلٹ ٹرین کا سب سے بڑا نیٹ ورک چین میں ہے۔ 66 بلین پاؤنڈ کی مالیت سے بنایا گیا آٹھ ہزار میل کی لمبائی پر مشتمل یہ نیٹ ورک پورے چین میں پھیلا ہوا ہے۔

اندازوں کے مطابق سن 2015 تک مزید آٹھ ہزار میل لمبی لائنیں بچھا دی جائیں گی۔

چین میں ریلوے ناقدین کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام ہائی اسپیڈ ریل کی ترقی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں جبکہ اس کی بجائے کم قیمت روایتی ریل کی سروس میں توسیع کی جانی چاہیے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM