1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

دنیا کی بلند ترین ’گرین‘ عمارت

توانائی کی بچت تحفظ ماحول کے لیے انتہائی اہم ہے۔ توانائی کا تقریباﹰ چالیس فیصد دنیا بھر کی عمارتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ہم عمارتوں میں صحیح ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تو کافی حد تک توانائی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

اس کی ایک مثال تائیوان میں بھی ملتی ہے، جہاں کی بلند ترین بلڈنگ کو ’گرین‘ یعنی توانائی کی بچت کرنے والی عمارت بنا دیا گیا ہے۔ یہ عمارت کبھی دنیا کی بلند ترین عمارت ہوا کرتی تھی۔

اس عمارت کی چھت سیاحوں سے بھری پڑی ہے۔ چھت سے تائیوان کا تائی پے شہر ایک قالین کی طرح بچھا ہوا نظر آتا ہے جبکہ گاڑیاں چھوٹے چھوٹے کھلونوں اور لوگ نقطوں کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ پانچ سو میٹر اونچی بانس کی طرح کھڑی تائی پے101 عمارت سیاحوں کے لیے ایک اہم کشش ہے۔ دو سال پہلے تک تائی پے 101 کو دنیا کی بلند ترین عمارت کہا جاتا تھا، تاہم اب یہ اعزاز دبئی میں قائم برج خلیفہ کو حاصل ہے۔ تائی پے 101سے یہ اعزاز چھن جانے سے قبل اس عمارت کی آپریٹنگ کمپنی کی نائب صدر کاتے ینگ اسے ایک خصوصی عمارت بنانا چاہتی تھیں، ’’لوگ ہمیں ایک میگنفائنگ گلاس کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ ہمیں سب کچھ بالکل صحیح انداز میں اچھی طرح کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر کام کرنے والوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ چیلنجیز کا سامنا ہوتا ہے۔ ہمیں تائی پے ون او ون پر فخر ہے کیونکہ یہ تائیوان کی نشانی ہے۔‘‘

Taipei 101

سیمنز کمپنی کی طرف سے اب نیا کنٹرول سسٹم لگایا گیا ہے جبکہ وینٹیلیشن اور ائر کنڈیشنگ کے لیے سینسر نصب کیے گئے ہیں

سن 2008 میں اس عمارت کو دنیا کی بلند ترین گرین عمارت بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کی وجہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تھیں۔ کاتے ینگ کہتی ہیں، ’’ ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ تائی پے 101 عمارت تحفظ ماحول کی ذمہ دار اور ہماری کمپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔ اگر اس طرح کی ایک بڑی عمارت توانائی کی بچت کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے تو دوسری بڑی بڑی عمارتوں کے مالکان بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔‘‘

Taipei 101 Energie-Ersparnis

دھوپ کی وجہ سے اس عمارت میں سب سے زیادہ توانائی ایئر کنڈیشنگ سسٹم پر خرچ ہوتی ہے

تائی پے ون او ون میں پانی اور بجلی کا کم استعمال کیا جاتا ہے۔ اس علاوہ اس عمارت میں کئی دوسری تکنیکی تبدیلیاں بھی لائی گئی ہیں، جن کے لیے جرمنی سے مدد حاصل کی گئی۔ جرمن کمپنی سیمنز کا کہنا ہے کہ اس عمارت کے سینکڑوں کمروں میں توانائی کی بچت کے حوالے سے اقدامات کیے گئے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کس طرح کی گئی۔ اس سوال کے جواب میں تائیوان میں سیمنز کمپنی کے سربراہ پیٹر وائس کا کہنا ہے، ’’صرف روشنی کے بلب ہی تبدیل نہیں کیے جاتے۔ آپ کو پوری عمارت کو سامنے رکھتے ہوئے مرحلہ وار آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ آپ کو تمام عناصر کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے اور پھر آپ توانائی میں تیس فیصد تک بچت کر سکتے ہیں۔‘‘

یہ عمارت سات سال پہلے بنائی گئی تھی اور اس کی تعمیر میں ایک لاکھ بیس ہزار مربع میٹر شیشے کا استعمال کیا گیا تھا۔ دھوپ کی وجہ سے اس عمارت میں سب سے زیادہ توانائی ایئر کنڈیشنگ سسٹم پر خرچ ہوتی ہے۔ سیمنز کمپنی کی طرف سے اب نیا کنٹرول سسٹم لگایا گیا ہے جبکہ وینٹیلیشن اور ائر کنڈیشنگ کے لیے سینسر نصب کیے گئے ہیں۔

رپورٹ: کلاؤس بارڈن ہاگن / امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM