1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

دنیا کو نئی شکل دینے والے ’دماغ‘ وینکوور میں جمع

دنیا بھر سے ذہین اور روشن فِکر لوگ ایسے خواب اور خدشات لے کر، جو ہمارے مستقبل کو بدل سکتے ہیں، کینیڈا کے شہر وینکوور میں جمع ہیں۔ یہ ملاقات دراصل TED کا سالانہ اکٹھ ہے۔

پیر 15 فروری سے شروع ہونے والا یہ ایونٹ پانچ روز تک جاری رہے گا۔ گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کی طرف سے چلائی جانے والی ایکس لیب کے آسٹرو ٹیلر کے علاوہ امریکا سے تعلق رکھنے والی ٹیلی وژن پروڈیوسر اور مصنفہ شونڈا رائمز بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے افتتاحی سیشن میں اسٹیج پر آ کر اپنے خیالات اور تصورات حاضرین تک پہنچائے۔

TED یعنی ٹیکنالوجی، انٹرٹینمنٹ، ڈیزائن کانفرنس کے مہتمم کرس اینڈرسن کے مطابق، ’’اس برس کے TED پروگرام میں مستقبل کے بارے میں غیر معمولی تصورات رکھنے والے مقررین شامل ہیں... ہم خیالات اور تصورات کے بارے میں سنیں گے ... کچھ پر امید، کچھ خوفزدہ کر دینے والے ... جو ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیں گے۔‘‘

آسٹرو ٹیلر نے اپنے خطاب میں ایکس لیب میں جاری منصوبوں کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کیا۔ ان میں خودکار طریقے سے سفر کرنے والی کاروں کے علاوہ دنیا کے اُن علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچانے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جو دور دراز اور الگ تھلگ ہیں اور جہاں روایتی طریقوں سے انٹرنیٹ پہنچانے کے لیے انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ یہ کام بہت بلندی پر چھوڑے جانے والے ہیلیئم گیس سے بھرے بڑے بڑے غباروں کی مدد سے کیا جائے گا۔

گوگل نہ صرف طویل عرسے سے TED کو اسپانسر کر رہا ہے بلکہ اس کے بانی بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ ٹیلر نے پیش گوئی کی کہ ایکس لیب کی کوششوں سے آئندہ دہائی کے اندر اندر پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے اربوں لوگوں تک انٹرنیٹ کی سہولت پہنچ جائے گی، جو ان کی زندگی میں بہتری لانے کا سبب بنے گی۔

پراجیکٹ لُون کے غباروں کے ذریعے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس کی ابتدائی جانچ سری لنکا میں کی گئی ہے

پراجیکٹ لُون کے غباروں کے ذریعے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس کی ابتدائی جانچ سری لنکا میں کی گئی ہے

ایکس ٹیم کی طرف سے پیر 15 فروری کو ہی اپنے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس کی ابتدائی جانچ سری لنکا میں کی گئی ہے۔ اس سروس کو ’پراجیکٹ لُون‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ٹیلر نے امید ظاہر کی کہ پراجیکٹ لُون کے غباروں کو رواں برس ہی انڈونیشیا میں بھی ٹیسٹ کیا جائے گا۔ ٹیلر کے مطابق، ’’ہمارے غبارے آج وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہم چاہتے ہیں... لہٰذا ہم اس سلسلے کو آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھیں گے۔‘‘

وینکوور میں ہونے والے TED ایونٹ میں 58 ممالک سے قریب 1400 افراد شریک ہو رہے ہیں۔ پانچ دنوں کے دوران 70 مقررین اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ خیالات کا یہ اظہار ’ڈریم‘ یا خواب کے عنوان کے تحت کیا جا رہا ہے۔ TED کے منتظمین کے مطابق، ’’مقررین چند ایسے عظیم خیالات حاضرین کے سامنے پیش کریں گے، جن کا خواب ہم آج دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ایسے خطرات سے بھی آگاہ کریں گے، جن پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

TED کانفرنس کا آغاز 1984ء میں کیلیفورنیا میں ہوا تھا تاہم اب یہ سلسلہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی سطح پر ماہرین اور دیگر شخصیات اپنے خیالات اور تجربات حاضرین تک پہنچاتے ہیں۔

TED نے ان خیالات یا لیکچرز کو ریکارڈ کرنے کا سلسلہ 2006ء میں شروع کیا، جنہیں آن لائن پوسٹ کیا جانے لگا۔ بعد ازاں یہ مذاکرے اور مباحثے ریڈیو اور ٹیلی وژن تک بھی پہنچ گئے۔