1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کا کم عمر ترین تین سالہ شرابی

برطانیہ کے ایک ہسپتال میں شراب نوشی کی عادت میں مبتلا ایک تین سالہ بچے کا علاج کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ بچہ دنیا کا کم عمر ترین شراب نوش بن گیا ہے۔

default

برطانیہ کے طبی حکام کے مطابق نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی طرف سے سال 2008ء سے 2010ء کے دوران ملک کے مرکزی حصوں سے تعلق رکھنے والے 13 بچوں میں شراب نوشی کی عادت میں مبتلا ہونے کی تشخیص کی گئی۔ ان بچوں کی عمر 12 سال سے کم تھی۔ یہ تین سالہ بچہ بھی ان 13 بچوں میں سے ایک تھا۔

تاہم طبی حکام کی جانب سے اس تین سالہ شراب نوش کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات دینے سے انکار کردیا گیا۔ اس کے علاوہ اس بچے کی شناخت کے بارے میں بھی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی جس کی وجہ مریضوں کی شناخت خفیہ رکھنے سے متعلق ملکی قوانین ہیں۔

NHS کے ایک ترجمان کا کہنا ہے، "ہم شراب نوشی کی عادت کا علاج پوری تندہی سے کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہمارے پاس خصوصی ٹیم موجود ہے، جس میں ماہرین شراب نوشی اور اس سے متعلق دیگر مسائل کے حل کے لیے نوجوان مریضوں کی مدد کے لیے ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں۔"

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کی طرف سے یہ خبر معلومات تک رسائی کی آزادی کے قانون کے تحت دی جانے والی ایک درخواست کے بعد جاری کی گئی۔ اس خبر سے یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ برطانیہ میں شراب نوشی کے کلچر پر قابو پانے کے لیے کس قدر کوششوں کی ضرورت ہے۔

Japan Baujolais Nouveau

برطانیہ میں شراب نوشی کے رجحان پر تشویش پائی جاتی ہے

یہ خبر ایک ایسے دن سامنے آئی جب حکومت کی طرف سے شراب فروش کمپنیوں سے یہ اپیل کی گئی تھی کہ وہ بہت زیادہ مے نوشی اور کم عمری میں شراب نوشی کو کم کرنے کی کوشش کے عہد کی توثیق کریں۔ حکومت کی اس اپیل کے خلاف ملک کے صحت سے متعلق اہم گروپوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔

ان گروپوں نے، جن میں برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن اور چیریٹی الکوحل کنسرن بھی شامل ہیں، وزارت صحت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شراب فروخت کرنے والی کمپنیوں کو پالیسی پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کررہی ہے۔ ان گروپوں کی طرف سے شراب نوشی میں کمی کے وعدوں سے متعلق اپیل پر بھی یہ کہہ کر تنقید کی گئی ہے کہ نہ تو ان کی نوعیت مخصوص کی گئی ہے اور نہ ہی ان کا بعد ازاں مقدار کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس