1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

دنیا کا سب سے بڑا کتاب میلہ ختم ہو گیا

جرمنی کے تجارتی دارالحکومت فرینکفرٹ میں اتوار کے روز فرینکفرٹ بک فیئر کہلانے والا دنیا کا سب سے بڑا کتاب میلہ کئی روز تک جاری رہنے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

default

قریب ایک ہفتے تک جاری رہنے والی اپنی نوعیت کی اس سب سے بڑی عالمی نمائش میں اس مرتبہ ڈیجیٹل کتابوں کی بھی کافی بھرپور نمائش کی گئی جبکہ امسالہ نمائش کا خصوصی پارٹنر ملک آئس لینڈ تھا۔ بک فیئر کے آخری روز اس تجارتی نمائش کے ڈائریکٹر ژُرگن بوس نے جرمن خبر ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ اس وقت بک انڈسٹری میں نئے تجارتی اداروں کا دور دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتابوں کی صنعت میں موجودہ عہد بہت دلچسپ تبدیلیوں کا عہد ثابت ہو رہا ہے۔

اس عالمی میلے کے منتظمین کے مطابق اس سال اگرچہ اس نمائش میں حصہ لینے والے ملکی اور غیر ملکی کمرشل اداروں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں معمولی سی کم رہی تاہم مجموعی طور پر اس میلے میں فلم اور کمپیوٹر کی دنیا سے تعلق رکھنے والے کمرشل اداروں کی دلچسپی بہت زیادہ اور غیر معمولی تھی۔

Buchmesse in Frankfurt

نمائش میں ای بکس بھی رکھی گئی تھیں

فرینکفرٹ بک فیئر 2011 کو دیکھنے کے لیے آنے والے ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کی تعداد دو لاکھ 83 ہزار کے قریب رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ تھی۔ اس سال اس میلے میں دنیا کے 106 ملکوں سے آنے والے 7384 نمائش کنندہ اداروں نے حصہ لیا۔

ژُرگن بوس کے بقول سال رواں کی اس نمائش میں تعلیمی اور سائنسی شعبوں کے علاوہ بچوں کے لیے چھاپی جانے والی کتابوں کے بین الاقوامی اشاعتی حقوق کی فروخت کے عمل میں بھی اشاعتی اداروں اور ان کے کمرشل ایجنٹوں کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ خصوصی پارٹنر ملک کے طور پر اس میلے میں شامل ہونے والے آئس لینڈ کے ادب میں عام شائقین کی دلچسپی بھی حیران کن حد تک زیادہ رہی۔

اس موقع پر آئس لینڈ کی پبلشنگ انڈسٹری کے مرکزی عہدیدار کرسٹیان جوناسن نے ڈی پی اے کو بتایا کہ آئس لینڈ کی کتابوں کے اشاعتی حقوق کی خریداری میں خاص طور پر امریکہ، مشرقی یورپ اور جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں سے آنے والے شرکت کنندہ اداروں نے متاثر کن دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

فرینکفرٹ بک فیئر کے موقع پر ہر سال جرمنی کی کتابی صنعت کی طرف سے دیا جانے والے امن انعام اس سال الجزائر سے تعلق رکھنے والے مصنف بوعالم سانسال کو دیا گیا۔ فرینکفرٹ کے سینٹ پال کیتھیڈرل میں منعقدہ ایک تقریب میں اتوار کے روز سانسال کو دیے جانے والے اس امن انعام کے ساتھ انہیں 25 ہزار یورو کی رقم بھی دی گئی۔

جرمن صوبے ہیسے کے شہر فرینکفرٹ میں اس عالمی کتاب میلے کا اہتمام ہر سال جرمن پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے کیا جاتا ہے اور اگلے سال اس بک فیئر کا خصوصی مہمان ملک نیوزی لینڈ ہو گا۔

رپورٹ: مقبول ملک / خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM