1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ نومبر میں بند کر دیا جائے گا

کینیا کی حکومت نے آج جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے مہاجر کیمپ کو رواں برس نومبر تک بند کر دیا جائے گا۔ اس کیمپ میں قریب تین لاکھ پناہ گزین قیام پذیر ہیں۔

Kenia Das Flüchtlingslager Dadaab

دباب کیمپ میں قریب تین لاکھ پناہ گزین قیام پذیر ہیں

کینیا نے ہیومن رائٹس واچ کے ان الزامات کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کینیا حکومت مہاجرین کو ڈرا دھمکا کر وطن واپس جانے پر مجبور کر رہی ہے جبکہ ایسا کرنا ان تارکین وطن کے لیے غیر محفوظ ہے۔ انسانی حقوق کے گروپ ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا کہ کینیا مہاجرین کو اپنے ملک میں رہنے یا واپس لوٹنے کے درمیان صحیح انتخاب کا حق نہیں دے رہا ہے۔ مزید یہ کہ اقوام متحدہ کا مہاجرین کے لیے ادارہ بھی پناہ گزینوں کو صومالیہ میں درپیش خطرات کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کر رہا ہے۔

کینیا کی وزارت داخلہ کے پرنسپل سیکرٹری کارانجا کابیچو نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا،’’ کیمپ بند کرنے کی ہماری حتمی حد اس سال نومبر تک ہے۔ ہم مہاجرین کے معاملات میں صحت اور شفافیت قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایک خود مختار ملک ہیں جو سلامتی سے متعلق ایک معاملے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور جس حد تک ممکن ہے ہم انسانی بنیادوں پر اس مسئلے سے ڈِیل کر رہے ہیں۔‘‘

Flüchtinge in Dadaab Kenia

ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا کہ کینیا مہاجرین کو اپنے ملک میں رہنے یا واپس لوٹنے کے درمیان صحیح انتخاب کا حق نہیں دے رہا ہے

دوسری جانب کینیا میں یو این ایچ سی آر کے ایک ترجمان نےکہا ہے کہ اس معاملے پر کسی قسم کا رد عمل ظاہر کرنے سے پہلے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ کینیا نے رواں برس مئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ ’دباب‘ نامی مہاجر کیمپ کو صومالی اسلام پسند گروپ الشباب کے مہلک حملوں کے تناظر میں نومبر تک بند کر دے گا۔ اس کیمپ میں تین لاکھ سے زائد مہاجرین قیام پذیر ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق صومالیہ سے ہے۔

کینیا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ الشباب نے’ دباب ‘ مہاجر کیمپ کو عسکریت پسندوں کو بھرتی کرنے کے کیمپ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ خیال رہے کہ صومالیہ کو اسلامی شورش کا سامنا ہے اور عشروں سے جاری تنازعہ کے بعد اب تعمیر نو کی جد و جہد میں مصروف ہے۔

DW.COM