1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

دنیا کا تیز ترین اسپیشل پاکستانی اولمپیئن

ہوم آف اولمپکس ایتھنز میں دنیا کے 180ممالک کی صف میں پاکستان کے محض 82 ایتھلیٹس نے 56 تمغے حاصل کیے۔ ان میں سونے کے 17، چاندی کے25 جبکہ کانسی کے 14 تمغے شامل ہیں۔

default

عدیل امیر کا تعلق لاہور کےعلاقے چورنگی گوجرپور سے ہے

ایونٹ میں دو گولڈ میڈل جیتے والی خاتون ایتھلیٹ بختاور گُل سے ٹیبل ٹینس کے ارسلان احمد اور سائیکلسٹ بلاول اسلم سے سوئمر حسنین عباس تک ہر ایک نے شاندار کارکردگی دکھائی، تاہم ایتھنز کے اصل ہیرو 18سالہ ایتھلیٹ عدیل امیر تھے۔ عدیل نے جو تین طلائی تمغے اپنے سینے پر سجائے، اس میں 100میٹر ریس کی وہ معرکتہ الآرا کامیابی بھی تھی جس نے انہیں ایتھنز اولمپکس کا تیز ترین اور بہترین ایتھلیٹ بھی بنا دیا۔

لاہور کےعلاقے چورنگی گوجرپور کے ایک غریب عیسائی خاندان سے تعلق رکھنے والے عدیل امیر کی سنسنی خیز کامیابی کی کہانی بھی اتنی ہی سنسنی خیز اور ڈرامائی ہے۔ پاکستان اسپیشل اولمپک ایتھلیٹکس ٹیم کے کوچ عرفان انور نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ عدیل امیر کی اسکواڈ میں شمولیت ان کے بڑے بھائی عرفان مسیح کی جگہ پر ہوئی جسے چند ماہ پہلے ایک خاندانی اجمتاع میں قتل کردیا گیا تھا۔

Adeel Amir

ایتھنز کے اصل ہیرو 18سالہ ایتھلیٹ عدیل امیر اپنے گھر والوں کے ساتھ

ابتدا میں عدیل کے والدین خوف کی وجہ سے اسے قومی کیمپ میں شرکت کی بھی اجازت نہیں دے رہے تھے کیونکہ اس کو بھی قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ عرفان انو کے بقول:’’ اس لیے ہم نے عدیل امیر کے تحفظ کی خاطر ٹریننگ کیمپ لاہور سے کراچی و اسلام آباد منتقل کر دیے۔‘‘عرفان انور کے مطابق کیونکہ قتل عدیل کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا اسلیے اولمپکس قبل کئی بار عدیل امیر کا نفسیاتی معائنہ بھی کرایا گیا۔ انور کے بقول عدیل نے اپنی قوت ارادی کے بل پر پوری دنیا میں خود کومنوا لیا جو پاکستان کے لیے قابل فخر ہے۔

عدیل امیر کا اپنے مقتول ایتھلیٹ بھائی عرفان مسیح کے ساتھ کچھ ایسا لگاؤ تھا کہ وہ یونانی ٹریک پر پہنچنے پر بھی اسے بھلا نہ سکا۔ ڈوئچے ویلے کو اپنے انٹرویو میں عدیل امیر کا کہنا تھا کہ بھائی کےغم کے ساتھ ٹریک پر ڈورنا دشوار تھا: ’’ ایک رات پہلے میں بہت اپ سیٹ ہو گیا تھا مگر اسی شام کوچ نے میری گھر والوں سے بات کرائی جنہوں نے چرچ میں میرے لیے خصوصی دعائیں کرائیں جس کے نتیجے میں کامیابی ملی‘‘۔

عدیل امیر نے سو میٹر جمپ گولڈ میڈل کو اپنے بھائی کے نام منسوب کیا ہے اوراب وہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کے اعلان کے ساتھ دیگر حلقوں کی جانب سے کی جا رہی اپنی پزیرائی پر بھی کافی خوش ہے۔

عدیل کا کہنا تھا کہ ہمارے گھر آنے والا ہر کوئی صرف اس کے بارے میں پوچھ رہا ہے:’’میں نے سات سال کی عمر میں دوڑ لگانا شروع کی تھی اب لگتا ہے کہ مجھے میری محنت کا صلہ مل گیا ہے۔ میری کامیابی کا کریڈٹ کوچ حنیف صاحب کو جاتا ہے۔‘‘عدیل کا کہنا ہے کہ انہیں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھائی کے قتل کا انصاف دلانے کا وعدہ کیا جس پر امید ہے کہ ضرور عمل ہو گا۔

عدیل جیسے اسپیشل اولمپیئنز کے لیے اولمپکس مقابلے تو 1968 سے ہو رہے ہیں مگر پاکستان میں ذہنی طور پر معذور افراد کو کھیل کے میدان میں لانے کا سلسلہ اسپیشل اولمپکس پاکستان نامی ادارے نے 1989 میں کراچی میں شروع کیا تھا۔

Hasnain Abbas

سوئمنگ کے مقابلوں میں حسنین عباس نے شاندار کارکردگی دکھائی

جب قومی کوچ عرفان انور سے پوچھا گیا کہ ماضی کے مقابلے میں اس باراسپیشل اولمپکس میں پاکستان کی سنگ میل کامیابی کی وجہ کیا رہی تو ان کا کہنا تھا: ’’پہلے ہمیں تیاری کے لیے گراؤنڈ اور ٹریک تک یہ کہہ کر نہیں دیے جاتے تھے کہ وہاں نارمل ایتھلیٹس زیر تربیت ہیں مگر اس بار تیاری کے لیے یہ سہولت مستقل فراہم کی گئی۔ ہمارے کیمپوں میں کوئی خلل نہیں آیا اور اسکا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔‘‘

حکومت پاکستان نے اسپیشل ایتھلیٹس کے لیے ایک سے پانچ لاکھ روپے کے انفرادی انعامات کا تو اعلان کیا ہے مگر عرفان انور کے مطابق حکومت اور نجی اداروں کو ان کھلاڑیوں کو روزگار کے مستقل مواقع فراہم کرنے چاہییں، تاکہ یہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکیں۔

حکومتی اقدامات سے قطع نظر پاکستانی اسپیشل ایتھلیٹس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ رکاوٹ کیسی بھی ہو انسانی اسپرٹ اور قوت ارادی کے ذریعہ اسے عبور کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: افسر اعوان