1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا کا بلند ترین کلیسا خطرے میں، وجہ بھرے ہوئے انسانی مثانے

جرمنی کے شہر اُلم میں دنیا کا بلند ترین مینار والا کیتھیڈرل اس وجہ سے خطرے میں ہے کہ اس کی بیرونی دیواروں پر یا ان کے قریب ہر سال ہزاروں مرد زیادہ تر نشے کی حالت میں لیکن مجبوری میں پیشاب کر جاتے ہیں۔

Beliebteste Sehenswürdigkeiten Deutschlands Ulmer Münster (picture-alliance/Carsten Schmidt)

اُلم کے کیتھیڈرل کا فضائی منظر

جنوبی جرمن شہر اُلم (Ulm) سے اتوار 23 اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق گوتھک طرز تعمیر کے شاہکار اس بہت پرانے کیتھیڈرل کا، جو دنیا کا بلند ترین مینار والا کلیسا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اس کے گرد و نواح سے گزرنے والے اکثر مرد، جو رفع حاجت کی غرض سے اپنے لیے بروقت کوئی مناسب جگہ تلاش نہیں کرتے، مجبوری میں اس عبادت گاہ کی بیرونی دیواروں کے پاس پیشاب کر جاتے ہیں۔

ان افراد میں وہاں سے گزرنے والے عام مرد بھی ہوتے ہیں اور وہ بھی جو خصوصاﹰ رات گئے قریبی شراب خانوں یا میلوں سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے مرد شہری جب اپنے مثانوں پر پڑنے والے بوجھ کو برداشت نہیں کر پاتے، تو چلتے چلتے یکدم اس کیتھیڈرل کی کسی دیوار کے پاس چند لمحوں کے لیے رک جاتے ہیں۔

اُلم شہر کی انتظامیہ عرصے سے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش میں ہے کیونکہ وہاں سے گزرتے ہوئے بھرے ہوئے مثانوں والے مرد مجبوری میں اپنے لیے تو آسانی پیدا کر لیتے ہیں مگر ایسی کوئی بھی حرکت مہذب سماجی رویے کے تقاضوں کے بھی برعکس ہے اور پھر اس طرح ایک عبادت گاہ کے طور پر اس کلیسا کا تقدس بھی مجروح ہوتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ اُلم کے بلدیاتی اہلکار اب یہ شکایت بھی کرنے لگے ہیں کہ ’پکڑے جانے‘ کی صورت میں ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے جرمانے کی رقم میں بار بار اضافے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہوا اور اس کلیسا کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

آثار قدیمہ اور فن تعمیرات کے ماہرین کے بقول انسانی پیشاب میں پائے جانے والے تیزابی مادے اور نمکیات نے ان پتھروں کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے، جن سے اس کلیسا کی بیرونی دیواریں اور ’ایک بری عوامی عادت‘ اس تاریخی کیتھیڈرل کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس وقت بھی اس کلیسا کی مرمت اور بحالی کا جو کام جاری ہے، وہ اس وجہ سے ضائع ہو رہا ہے کہ ماہرین اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور انسانی قرورے میں پائے جانے والے کیمیائی مادے اپنے طور پر اس کیتھیڈرل کی دیواروں کو نقصان پہنچاتے جا رہے ہیں۔

اُلم کی بلدیاتی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں اس کلیسا کی دیواروں پر پیشاب کرنے والوں کے لیے فی کس جرمانہ 50 یورو (54 ڈالر) سے بڑھا کر 100 یورو (قریب 109 امریکی ڈالر) کر دیا تھا۔ لیکن ’دیواروں کو خراب کرنے والا بدبو دار مسئلہ‘ پھر بھی حل نہیں ہوا۔ ابھی تک کسی ’مجرم‘ سے یہ دگنا کر دیا گیا جرمانہ وصول بھی نہیں کیا جا سکا، کیونکہ ’ایسے کسی مجرم کو رنگے ہاتھوں پکڑنا‘ بھی آسان کام نہیں ہے۔

Wildpinkler in Düsseldorf (picture-alliance/dpa)

اُلم کی بلدیاتی انتطامیہ ایسے افراد کے لیے جرمانے کی رقم 50 پورو سے بڑھا کر 100 یورو کر چکی ہے مگر صورت حال میں کوئی بہتری نہیں آئی

’اُلم مِنسٹر‘ کہلانے والے اس 161.53 میٹر بلند کیتھیڈرل کو محفوظ رکھنے کے ذمے دار ادارے ’میونسٹر باؤ‘ کے سربراہ میشائل ہِلبرٹ کہتے ہیں، ’’میں گزشتہ چھ ماہ سے اس کیتھیڈرل کے بیرونی حصے کو پیشاب اور بو سے پاک رکھنے کے لیے کوششیں کر رہا ہوں، اور اب بھی وہاں جگہ جگہ کیے جانے والے پیشاب اور قے کے نشانات ہیں۔‘‘

میشائل ہِلبرٹ کے مطابق ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ کلیسا جس اسکوائر کے وسط میں واقع ہے، وہاں اس جگہ کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے پیش نظر بہت زیادہ عوامی میلو‌ں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ ’’ان میلوں اور تقریبات میں شریک لوگ اس لیے بھی کلیسا کی دیواروں پر پیشاب کر جاتے ہیں کہ میلوں کے منتظمین مہمانوں کے لیے کافی تعداد میں مفت ٹائلٹس کا اہتمام نہیں کرتے۔‘‘

DW.COM