1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا بھر میں کرسمس کا تہوار خصوصی سکیورٹی کے سائے میں

آج دنیا بھر میں مسیحی آبادی یسوع مسیح کی ولادت کا خصوصی تہوار ’کرسمس‘ منا رہی ہے۔ پاکستان میں پچیس دسمبر کو ’بڑا دن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر جرمنی میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کرسمس کے اپنے پیغام میں کہا کہ کیتھولک عقیدے کے حامل افراد کو بچوں کے ساتھ شفقت، جنگ سے متاثرہ افراد کے لیے مہربانی، مہاجروں اور بے گھروں کے ساتھ بھائی چارے کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار پوپ نے ہفتے کی رات ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں دس ہزار سے زائد عبادت گزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پوپ نے مشرقی حلب کے تناظر میں کہا کہ اُن بچوں کی حالت کیا ہو گی جو مکانوں میں چھپے ہوئے تھے اور باہر بمباری کا سلسلہ شروع تھا۔

 اُدھر اسرائیلی سرحد پر فلسطینی علاقے بیت الحم میں چرچ آف نیٹیویٹی میں بھی ہزاروں مسیحی خصوصی شبینہ عبادت میں شریک ہوئے۔ پوپ فرانسس کی طرح بیت الحم کے آرچ بشپ پیئر باٹسٹا نے بھی لوگوں کو تلقین کی کہ وہ بے گھر افراد کو اپنی خصوصی شفقت و عنایت سے محروم نہ رہنے دیں۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں پرتشدد حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ اِس خطے میں امن کے لیے کوششوں کو ترجیحی بنیاد پر آگے بڑھائیں۔ چرچ آف نیٹیویٹی میں منعقدہ خصوصی تقریب میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی شریک تھے۔

Geburtskirche Bethlehem (picture-alliance/dpa/M.Mohammed)

فلسطینی علاقے بیت الحم میں چرچ آف نیٹیویٹی میں بھی ہزاروں مسیحی خصوصی شبینہ عبادت میں شریک ہوئے

چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ آرچ بشپ جسٹن ویلبائی نے بھی کرسمس کے اپنے خصوصی خطاب میں مشرقی وسطیٰ اور دنیا کے مختلف ملکوں میں سلامتی کی صورت حال پر فوکس کیا۔ انہوں نے ان علاقوں میں انسانی جانوں کے ضائع ہونے پر تاسف کا اظہار کیا۔ ویلبائی نے یہ بھی کہا کہ سن 2016 کے اختتام پر دنیا بدل چکی ہے، ہر جگہ خوف اور تقسیم کی صورت حال چھائی ہوئی ہے اور کچھ بھی مثبت کہا جانا بعید از قیاس ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی علاقے میں سکیورٹی چوکس ہے کیونکہ اسرائیل میں ہنوکا  کا مذہبی تہوار منایا جا رہا ہے۔ اسی طرح یورپ کے کئی ملکوں میں کرسمس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ جرمنی میں وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے سکیورٹی انتہائی چوکس رکھنے کا بتایا ہے۔ فرانس میں 91 ہزار پولیس اور فوج کے اضافی دستے مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں۔

مشرِق بعید کے بعض ملکوں اور آسٹریلیا میں کرسمس اور نئے سال کے موقع پر سکیورٹی کو انتہائی چوکس رکھا گیا ہے۔ دنیا بھر میں کرسمس کے موقع پر صرف فلپائن میں ایک بم پھٹنے کی اطلاع ہے۔