1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

دنیا بھر میں پولیو کے مکمل خاتمے کی آخری ممکنہ مہم

آج اتوار سے دنیا کے ڈیڑھ سو ملکوں میں پولیو بیماری کے ممکنہ خاتمے کی ایک بڑی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ اِس مہم کی تکمیل کے بعد دنیا سے پولیو مرض کا صفایا ہو سکتا ہے۔

سماجی اور طبی ماہرین اور امیونائزیشن کے سرگرم کارکنوں کے مطابق آج سے شروع ہونے والی مہم انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دنیا بھر سے پولیو مرض کے مکمل خاتمے میں یہ اہم ہے۔ رواں برس کے دوران صرف پاکستان اور افغانستان میں ایک درجن پولیو مریضوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے گلوبل ویکسین کے پروگرام نے بچوں کی صحت کو انتہائی محفوظ بنانے میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ پولیو مرض سے بچے کم عمری میں معذوری سے دوچار ہو جاتے تھے۔

آج سے شروع ہونے والی پولیو خاتمے کی مہم کے نتائج رواں برس کے اختتام پر جاری کیے جائیں گے اور امکاناً اِس کا اعلان ہو سکتا ہے کہ دنیا کو پولیو وائرس سے پوری طرح پاک کر دیا گیا ہے۔ آج سترہ اپریل سے لے کر پہلی مئی تک پولیو وائرس کے انسداد کی مربوط مہم ایک سو پچاس ملکوں میں ایک ساتھ شروع کر دی گئی ہے۔ اِس ویکسین کی مہم کے بعد نگرانی کا عمل جاری ر کھا جائے گا۔ اگر رواں برس کے اختتام پر کسی بھی متاثرہ شخص کی نشاندہی نہ ہوئی تو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پولیو ویکسنیشن کی مہم کے جاری رکھنے کے عمل کو معطل کر دے گا۔

Infografik Polio weltweit englisch

رواں برس کے دوران صرف پاکستان اور افغانستان میں ایک درجن پولیو مریضوں کی نشاندہی کی گئی ہے

گزشتہ تیس برسوں سے پولیو کے خاتمے کی ابتدائی ویکسین کو اپ گریڈ کرنے کا عمل شروع ہے اور تین دہائیوں کے بعد طبی ریسرچرز کی کوششیں ثمر آور ہونے والی ہیں۔ عالمی ادارے کے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے سربراہ مائیکل زیفران کا کہنا ہے کہ ایک وہ وقت جب ساری دنیا میں دو لاکھ سے زائد پولیو وائرس کے متاثرہ مریضوں کی نشاندہی ہوا کرتی تھی اور اور اب یہ تعداد محض دس بارہ تک رہ گئی ہے۔ زیفران کے خیال میں اِس وائرس کے مکمل خاتمے پر ہی سکھ کا سانس لیا جائے گا اور اِس باعث عالمی جدوجہد ابھی اپنی منزل پر نہیں پہنچی ہے۔

عالمی ادارہٴ صحت کے سینیئر محقق مائیکل زیفران کا کہنا ہے کہ پولیو کے مکمل خاتمے کی کوششیں کوئی آسان عمل نہیں تھا بلکہ اِس میں کامیابی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ زیفران کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں سامنے آنے والے پولیو وائرس سے متاثرہ ایک درجن بچوں کی موجودگی اِس خطرے کی نشان دہی کرتی ہے کہ یہ وائرس اِن ملکوں کی سرحدوں سے باہر جا سکتا ہے اور قریبی ہمسایہ ملکوں میں یہ وائرس جگہ بناتے ہوئے افزائش کے عمل سے گزر سکتا ہے۔