1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دنیا بھر میں تاحال چّون صحافی پرغمال

صحافیوں کی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سال 2015ء کے دوران صحافیوں کے اغوا کی وارداتوں میں کمی آئی ہے۔ لیکن اس رپورٹ میں چونکا دینے والے اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف)کے مطابق 2014ء کے مقابلے میں رواں برس کم صحافیوں کا اغوا کیا گیا تاہم جہاں تک اس سال کے آخر میں یرغمال بنائے جانے والے صحافیوں کا تعلق ہے، یہ تعداد گزشتہ برس سے زیادہ ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس برس 54 صحافی بدستور یرغمال ہیں اور ان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یرغمال بنانے کے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ یمن کا مسلح تنازعہ بھی ہے۔

اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اغوا کے کل 79 واقعات رونما ہوئے ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 34 فیصد کم ہیں۔ اس کی وجہ مشرقی یوکرائن کے حالات میں ہونے والی بہتری ہے۔ اس کے علاوہ آر ایس ایف نے آٹھ صحافیوں کو لاپتہ قرار دیا ہے۔

آر ایس ایف ان صحافیوں کو لاپتہ قرار دیتی ہے، جن کے بارے میں یہ علم نہیں ہے کہ وہ زندہ ہیں یا ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس رپورٹ میں ذمہ داریاں نبھانے کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ یرغمال بنانے کے سب سے زیادہ واقعات شام میں پیش آئے۔ جنگ کے شکار اس ملک میں اس برس کے دوران کوئی چھبیس صحافیوں کو یرغمال بنایا گیا۔ شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے جنگجو یرغمال بنائے جانے کے سب سے زیادہ واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ آئی ایس 2015ء کے دوران اب تک ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے 18 افراد کو اغوا کر چکی ہے۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ لاقانونیت کے شکار کچھ علاقوں میں اغوا برائے تاوان ایک صنعت بن چکی ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق صحافیوں کو گرفتار کیے جانے کے واقعات میں بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں چودہ فیصد کی کمی آئی ہے۔ چین ، مصر، ایران اور اریٹیریا میں خاص طور پر متعدد صحافیوں کو مقدمات کا سامنا ہے۔