1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنیا بھر میں اسقاط حمل کے سالانہ چھبیس ملین غیر محفوظ واقعات

ایک تازہ جائزے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال اسقاط حمل کے 55.7 ملین واقعات میں سے قریب نصف انتہائی غیر محفوظ انداز میں عمل میں آتے ہیں۔ اس دوران حاملہ خاتون کی زندگی شدید خطرات سے دوچار رہتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری کردہ اس جائزے میں دنیا بھر میں غیر محفوظ اسقاط حمل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر سال عالمی سطح پر ساڑھے پچیس ملین سے زائد حمل غیر محفوظ طریقوں سے ضائع کر دیے جاتے ہیں، جن کے لیے روایتی طبی نظام اور نامناسب طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایسے زیادہ تر یعنی تقریباً 97 فیصد واقعات افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکی ممالک میں سامنے آئے۔ حمل کو گرانے کے لیے پر خطر طریقے استعمال کرنے اور شرح اموات کے حوالے سے براعظم افریقہ سرفہرست ہے۔ یہ جائزہ 2010ء سے 2014 ء کے درمیان سامنے آنے والے واقعات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔

اس جائزے کو مرتب کرنے والوں میں بیلا گاناترا بھی شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی ملک کے قوانین اور وہاں کی خوشحالی محفوظ اسقاط حمل پر اثر انداز ہوتی ہے، ’’مانع حمل ادویات کی دستیابی میں اضافے کے علاوہ ان تک رسائی اور انہیں قابل خرید بنانے سے غیر ارادی حمل اور اسقاط کے واقعات کم ہو جائیں گے۔‘‘ گاناترا کے مطابق پر خطر اسقاط حمل کے دوران دنیا بھر میں ہر سال سینتالیس ہزار خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں۔

اسقاط حمل: عورت کو انتخاب کا حق، لیکن کب؟

اسقاط حمل کی دوائی ڈرون کے ذریعے

تھائی حکومت کا اسقاطِ حمل کے قوانین میں نرمی کا فیصلہ

عالمی ادارہ صحت نے اس تناظر میں مانع حمل ادویات اور دیگر محفوظ طریقوں کے بارے میں آگہی میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا کے ستاون ممالک میں درخواست دیے جانے کے بعد حمل ضائع کر دینے کی اجازت مل جاتی ہے۔ اس جائزے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں حمل ضائع کرنے کے ہر دس میں نو واقعات مکمل طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عمل طبی طور پر تربیت یافتہ افراد ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق مکمل کرتے ہیں۔

اس جائزے کو مرتب کرنے میں نیو یارک کے گٹ ماخر انسٹیٹیوٹ نے بھی ڈبلیو ایچ او سے تعاون کیا۔ اس جائزے کی جملہ تفصیلات اور نتائج آپ لینسٹ میڈیکل جرنل میں پڑھ بھی سکتے ہیں۔

DW.COM