1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دنيا کی سب سے مہنگی ماڈل کاريں

گر آپ کے پاس 48 لاکھ ڈالر فالتو ہيں اور آپ دنیا کی سب سے مہنگی ماڈل کار خريدنا چاہتے ہيں تو آپ کو جرمنی کے وفاقی صوبے باويريا کے روبرٹ گيولپن سے رابطہ قائم کرنا چاہيے۔

default

ايک ماڈل کار

روبرٹ گيولپن انجينئر ہيں اور وہ ماڈل کاریں بنانے کے ماہر ہيں۔ ليکن وہ ايسی عام سی کھلونا ماڈل کاریں نہيں بناتے جو دکانوں ميں بچوں کے کھيلنے کے لیے خريدی جاتی ہيں يا دوسرے شوقين مزاج افراد کی دلچسپی کا باعث ہوتی ہيں اور جن کی قيمت صرف چند ڈالر ہوتی ہے۔ گيولپن کی تیار کردہ ان ماڈل کارو‍ں کی قيمت کئی ہزار ڈالر تک پہنچتی ہے۔ ليکن ان کی کاریں بہت ہی خاص قسم کی ہوتی ہيں۔ ان کی تياری پر وہ سينکڑوں گھنٹے صرف کرتے ہيں۔ ماڈل کاروں کے خالق گيولپن کا کہنا ہے کہ يہ آرٹ اور ايک نادر فن ہے۔

روبرٹ گيولپن ایک مکينيکل انجينئر ہيں۔ انہوں نے اپنی تعليم مکمل کرنے کے بعد مرسيڈيز کار کمپنی کے لیے نئے انجن تيار کرنا شروع کیے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی ایک ذاتی فرم قائم کر لی۔ 52 سالہ گيولپن نے کہا: ’’وہ ايک دلچسپ مرحلہ تھا ليکن پھر يہ ايک عام سا کام بن گيا۔‘‘

Elchtest Mercedes A1 Modell

اے کلاس مرسيڈيز کا ماڈل

سن 1990 کے عشرے کے آخر ميں انہوں نے قيمتی دھاتوں سے ماڈل کاریں بنانے کا کام پيشہ ورانہ حيثيت سے شروع کرديا۔ اس سے اگلے پانچ برسوں میں گيولپن نے قيمتی ماڈل کاروں کے حصوں اور پرزوں کی تياری کا ايک بالکل نيا طريقہ ايجاد کيا۔ انہوں نے ايک مشين بھی ايجاد کی جو ان کی قيمتی ماڈل کاروں کے قطعی منفرد پارٹس کو ڈھال سکتی تھی۔ اس مشين پر انہوں نے سات لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ انہوں نے کہا: ’’مجھے معلوم تھا کہ ايک بے عيب ماڈل کار بنانے کا ميرا تصور صرف اُسی صورت ميں حقيقت بن سکتا تھا، جب ميں اُس کے پارٹس کی ڈھلائی کے لیے ايک نفيس طريقہ ايجاد کر سکوں۔‘‘ گيولپن ماڈل کاروں کی تياری کی اس ٹيکنالوجی کا استعمال سن 2009 سے کر رہے ہيں۔

مرسيڈيز، لامبرجينی، رولز روئس يا بينٹلے کی طرح کی جو ماڈل کاریں گيولپن تيار کرتے ہيں، ان کے پارٹس کی تعداد 300 تک ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ايک ماڈل کار تيار کرنے ميں مجھے 500 گھنٹے لگتے ہيں۔ يہ خالص اور مکمل طور پر دستی کام ہے۔‘‘

Flash Galerie Rolls Royce Autoshow Genf

رولس روئس کار کا نيا ماڈل

گيولپن نے 100 کی محدود تعداد ميں 40 مختلف ماڈلز کی کاریں تيار کی ہيں۔ ان ميں سے ہر ماڈل کار کے ساتھ ايک سرٹيفیکيٹ بھی ديا جاتا ہے۔ ان کی ماڈل کاروں ميں بہت سی قديم روايتی شکل کی موٹر گاڑیاں بھی شامل ہيں۔ ان ميں سے کسی کی قيمت بھی 1400 ڈالر سے کم نہيں ہے۔

اُن کے خريداروں کا تعلق دنيا بھر سے ہے اور ان ميں بڑی بڑی کارساز فرمیں بھی شامل ہيں، جو اپنے معروف اور بڑے گاہکوں کو خصوصی تحفے کے طور پر دينے کے لیے یہ ماڈل کاریں خريدتی ہيں۔ گيولپن نے کہا: ’’ميرے کچھ گاہک ايسے بھی ہيں جو بچپن ہی سے ايک روايتی قسم کی کار خريدنے کا خواب ديکھ رہے تھے۔ اب وہ اُس کا ماڈل خريد کر خوش ہوتے ہيں اور اُسے اپنے گھر کی الماريوں ميں سجاتے ہيں۔‘‘ مختلف کار فرمیں بھی خوشی سے کئی لاکھ کی نئی موٹر گاڑی خريدنے والے اپنے گاہکوں کو اسی کار کا ماڈل تحفتاً ديتی ہيں۔

گيولپن اب اپنی سب سے زيادہ مہنگی ماڈل کار کو نيويارک يا دبئی ميں نيلام کرنا چاہتے ہيں۔ اس کار کے پارٹس پلاٹينم، چاندی اور ہيرے جواہرات کے بنے ہوئے ہيں۔ گيولپن نےکہا: ’’صرف ان قيمتی مادوں ہی پر 27 لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ ميں ايک ايسی چيز تيار کرنا چاہتا ہوں جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہيں بنائی تھی۔ نيلامی ميں اس ماڈل گاڑی کی کم از کم قيمت 48 لاکھ ڈالر ہوگی۔‘‘

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس