1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دمشق کے نواحی علاقے کا محاصرہ

شام کے دارالحکومت دمشق کے ایک نواحی علاقے میں بدھ کو صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خلاف مظاہرے ہوئے، جس کے بعد فوج نے اس علاقے کا محاصرہ کر لیا۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ خبر محاصرے کا نشانہ بننے والے علاقے کے رہائشیوں کے حوالے سے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں بشارالاسد کے وفادار فوجی شریک تھے، جن کی کمانڈ صدر کے بھائی کے ہاتھ میں ہے۔

سکیورٹی فورسز نے حمص کے قریبی رہائشی علاقوں میں بھی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق وہاں منگل کو سکیورٹی فورسز نے کم از کم سولہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

روئٹرز نے دمشق کے علاقے حرستا کے ایک رہائشی کے حوالے سے بتایا کہ فورتھ ڈویژن کے سینکڑوں فوجیوں نے بدھ کو آبادی کے داخلی راستے بند کر دیے۔ دارالحکومت کے اس نواحی علاقے میں ڈیڑھ لاکھ افراد آباد ہیں۔ اس رہائشی کا کہنا تھا کہ علاقے کی بجلی اور ٹیلی فون لائنیں کاٹ دی گئیں ہیں جبکہ پانی کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے۔

یہ معلومات دینے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم بتایا گیا ہے کہ وہ انجینئر ہے اور کسی طرح سے حرستا سے نکلنے میں کامیاب رہا۔ اس کا کہنا ہے کہ متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔

Maher al-Assad

بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد

حکومت مخالف ذرائع کے مطابق شام میں روزانہ ہی سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ چار ماہ قبل شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے لے کر اب تک بارہ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اب مظاہروں کا سلسلہ بڑے شہروں تک پہنچ رہا ہے۔ تاہم ملک کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز حلب اور دمشق کے وسطی اضلاع میں سخت سکیورٹی کی وجہ سے کوئی بڑا مظاہرہ نہیں دیکھا گیا۔

فورتھ ڈویژن بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد کی براہ راست کمانڈ میں ہے اور اس کے اہلکاروں میں بیشتر کا تعلق اقلیتی علوی فرقے سے ہے۔ ریپبلیکن گارڈز کے ساتھ یہ فورس بھی بہترین اسلحے سے لیس یونٹ شمار کی جاتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس