1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دمشق سے ہزاروں شدت پسندوں کا انخلاء

شامی دارالحکومت دمشق سے قریب چار ہزار افراد کا محفوظ انخلاء کل ہفتہ 26 دسمبر کو ہو گا۔ ان میں قریب نصف تعداد عسکریت پسند گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگجوؤں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ پیشرفت ایک جنگ بندی معاہدے کا نتیجہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ’اسلامک اسٹیٹ‘ اور اس کے مخالف القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شامی باغی گروپ النصرہ فرنٹ کے عسکریت پسند دمشق کے اضلاع القدم، ہجر الاسود اور فلسطینیوں کے کیمپ یرموک سے نکلیں گے۔

شامی حکومت کے ایک اہلکار نے جو جنگ بندی معاہدے کے بارے میں معلومات رکھتا ہے، اے ایف پی کو بتایا، ’’اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ چار ہزار افراد جن میں عسکریت پسند اور سویلین بھی شامل ہیں، ان علاقوں سے ہفتے کے روز نکل جائیں گے۔ ان میں النصرہ اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ارکان بھی شامل ہیں۔‘‘

اس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیر قبضہ شمالی شہر الرقہ اور النصرہ کے کنٹرول والے شہر ماریا پہنچایا جائے گا۔ اس معاہدے کے دوسرے مرحلے کے طور پر ان اضلاع میں حکومتی ادارے کھول دیے جائیں گے اور روزمرہ ضروریات کی اشیاء کی دستیابی کو یقنی بنایا جائے گا۔

اے ایف پی کے مطابق گزشتہ دو برسوں سے زائد عرصے کے دوران یہ پہلا موقع ہو گا کہ ان تین شمالی اضلاع کو ضروریات زندگی کی اشیاء فراہم کی جا سکیں گی۔ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے شدت پسندوں نے یرموک کے فلسطینی مہاجر کیمپ پر رواں برس اپریل میں حملہ کیا تھا جس کا مقصد النصرہ فرنٹ سے اس علاقے کا کنٹرول حاصل کرنا تھا۔

عسکریت پسند دمشق کے اضلاع القدم، ہجر الاسود اور فلسطینیوں کے کیمپ یرموک سے نکلیں گے

عسکریت پسند دمشق کے اضلاع القدم، ہجر الاسود اور فلسطینیوں کے کیمپ یرموک سے نکلیں گے

شام کے حالات پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ معاہدہ شامی حکومت اور ان اضلاع کے رہنماؤں کے درمیان دو ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر القدم کے ایک مقامی رہنما نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہر جنگجو کو اپنے خاندان، ایک سوٹ کیس اور ذاتی ہتھیار کے ساتھ یہاں سے نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق شام کے دیگر علاقوں میں بھی جنگ بندی معاہدوں پر عملدرآمد ہوتا رہا ہے، جن کے ان کی کامیابی کے حوالے سے مختلف نتائج نکلے۔ سکیورٹی کے ایک ذریعے کے مطابق شامی فوج کا ایک یونٹ جمعرات کو ضلع القدم میں داخل ہوا تاکہ عسکریت پسندوں کے زیر استعمال بھاری ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کو قبضے میں لیا جا سکے۔ اس ذریعے کا مزید کہنا تھا کہ ہفتے کے روز وہاں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے اس علاقے میں 18 بسیں بھیجی گئی ہیں۔ وہاں سے نکلنے والوں میں دو ہزار کے قریب عسکریت پسند بھی شامل ہوں گے۔