1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دمشق اور اسرائیل بالواسطہ مکالمت بحال کریں،ایشٹن

یورپی یونین کی خارجہ اور سلامتی سے متعلقہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن نے شام اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ آپس کے بالواسطہ مذاکرات بلاتاخیر شروع کریں۔ شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات ایک سال سے معطل ہیں

default

کیٹھرین ایشٹن دورہ مشرق وسطی پر

یورپی یونین کی وزیر خارجہ کہلانے والی کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لئے فلسطینیوں اور اسرائیل کے مابین بات چیت کے ساتھ ساتھ، شامی اسرائیلی مذاکرات بھی بہت اہم ہیں۔کیتھرین ایشٹن کے بقول وقت آچکا ہے کہ دمشق اور اسرائیل اپنی وہ بالواسطہ مکالمت بحال کریں جو گزشتہ برس سے جمود کا شکار ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ سیاست کی نگران اس برطانوی خاتون سیاستدان نے دمشق میں شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کے ساتھ اپنی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یورپی یونین کے لئے یہ پیش رفت انتہائی اہم ہے کہ شام اور اسرائیل کے مابین بات چیت بحال ہو۔

ایشٹن نے کہا کہ برسلز کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب اسرائیل تنازعے کے حل کے لئے شام اور اسرائیل کے درمیان مکالمت کی بحالی خطے میں قیام امن کی دیگر کوششوں میں بہت معاون ثابت ہو گی۔

Catherine Ashton EU-Außenbeauftragte Amr Moussa Ägypten Kairo

اپنے دورے کے دوران کیتھرین ایشٹن عرب لیگ ہیڈ کوارٹر میں

اسی حوالے سے جاری ماہ کے اوائل میں ترکی نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر شام اور اسرائیل دوبارہ آمادہ ہوں، تو ترکی ان کے مابین بالواسطہ بات چیت میں پھر سے ثالثی پر تیار ہے۔ شامی اسرائیلی بالواسطہ مکالمت سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمیرٹ کے استعفے کے بعد سے جمود کا شکار ہے۔

شام نے اسرائیل کے ساتھ اپنی بالواسطہ بات چیت گزشتہ برس کے اوائل میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی کے علاقے میں قریب تین ہفتے تک جاری رہنے والی جنگی کارروائی کے خلاف احتجاج کے طور پر بند کر دی تھی۔

دمشق میں کیتھرین ایشٹن کےساتھ مل کر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے اس بارے میں کہا کہ شامی حکومت کو ابھی ترکی کی طرف سے ان مذاکرات کے لئے کوئی نظام الاوقات فراہم نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں شام کو ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کی حکومت پر مکمل اعتماد ہے۔

اپنے دورۂ شام کے دوران کیتھرین ایشٹن نے صدر بشار الاسد سے بھی ملاقات کی اور دو طرفہ امور کے علاوہ اس بارے میں بھی کھل کرتبادلہ خیال کیا کہ خطے میں یورپی یونین کے کردار کو مزید بہترکیسے بنایا جا سکتا ہے۔ کیتھرین ایشٹن اپنے موجودہ عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے ان دنوں مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے پر ہیں۔

شام ان کےاس دورے کی دوسری منزل ہے۔ کیتھرین ایشٹن کل پیر کے روز مصر پہنچی تھیں۔ موجودہ دورے کے دوران انہیں لبنان،غزہ پٹی کےعلاقے، مغربی کنارے اور اسرائیل کےعلاوہ اردن بھی جانا ہے۔ دریں اثنا امریکہ کے خصوصی مندوب جارج مچل نے اپنا دورہ مشرق وسطی منسوخ کردیا ہے۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : افسر اعوان

DW.COM