1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

دل کے دورے سے بچاؤ، مچھلی کھانے کے فوائد

ہر ہفتے دو تین مرتبہ مچھلی کھانے والے افراد میں دل کے دورے کا امکان اُن لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے جو ہر ہفتے صرف ایک بار یا بالکل ہی مچھلی نہیں کھاتے۔

default

یہ نتیجہ ایک ایسے تجزیاتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں پندرہ مختلف طبی تحقیقی جائزوں سے حاصل ہونے والی معلومات کا اجتماعی طور پر موازنہ کیا گیا۔ ان طبی مطالعوں میں سے ہر ایک میں عام لوگوں سے یہ پوچھا گیا تھا کہ وہ ہر ہفتے یا مہینے بالعموم کتنی بار مچھلی کھاتے ہیں۔

Flash-Galerie Leben in Palästina Palästinenser

طبی ماہرین نے ایسے افراد کی صحت کا چار سال سے لے کر تیس برس تک کے عرصے تک مسلسل ریکارڈ رکھا تھا۔ اس کا مقصد یہ پتہ چلانا تھا کہ ان زیر مشاہدہ افراد میں دل کے دورے کا امکان کتنا ہوتا ہے یا اگر وہ کسی طرح کے ہارٹ اسٹروک کا شکار ہوتے ہیں تو کن حالات میں۔

اس تجزیاتی جائزے کے لیے جن تحقیقی منصوبوں کے نتائج کو پرکھا گیا اور ان کا موازنہ کیا گیا، وہ امریکہ کے علاوہ مختلف یورپی ملکوں، جاپان اور چین میں مکمل کیے گئے تھے۔ اس طرح ان میڈیکل ریسرچ منصوبوں کے تحت ماہرین نے تیس برس کی عمر سے لے کر ایک سو تین برس تک کی عمر کے چار لاکھ سے زائد انسانوں کا مسلسل مشاہدہ کیا تھا۔

Fish Fight Fish and Chips

اس تجزیے سے نتیجہ یہ نکلا کہ تمام پندرہ مطالعاتی جائزوں میں ایسے افراد میں، جو قدرے زیادہ مچھلی کھاتے تھے، مچھلی نہ کھانے والوں یا بہت کم مچھلی کھانے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا امکان بارہ فیصد کم تھا۔

ان نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے امریکہ میں ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے متعدی امراض کے معروف ماہر ڈاکٹر داریئوش موذافاریان Dariush Mozaffarian نے کہا، ‘میری رائے میں مچھلی کسی بھی انسان کی خوراک میں غذائیت سے بھرپور عناصر کے ایسے پیکج کی وجہ بنتی ہے، جن میں omega-3 جیسے اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایسے اجزاء کی مدد سے ہی یہ وضاحت کی جا سکتی ہے کہ زیادہ مچھلی کھانے والوں میں دل کے دورے کا امکان کم کیوں ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر موذافاریان کے مطابق بہت سے شواہد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہر ہفتے دو تین مرتبہ مچھلی کھانے سے کسی بھی انسان کو اتنا فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اس کے لیے دل کے دورے کے خطرات کو کچھ کم کیا جا سکے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس