1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دل کہاں بکے گا، خریدار بتا دو

معاشی ابتری اور روزگار کے فقدان نے اردن کی جوان نسل کو جسمانی اعضا‌ء بیچنے پر مجبور کردیا ہے۔ یوں انسانی اعضاء کی سمگلنگ کرنے والوں کیلئے اردن ایک بہترین جگہ بن گئی ہے۔

default

تین بچوں کے باپ، تیس سالہ علی کو جب کہیں کوئی نوکری نہ ملی تو اس نے اپنے دوست کے مشورے پراپنا ایک گردہ فروخت کرنےکا ارادہ کر لیا۔ اس مقصد کی تکمیل کیلئے وہ اس سال کے شروع میں مصر روانہ ہوا۔ وہاں صرف پانچ ہزارامریکی ڈالرز کے عوض اس نے اپنا ایک گردہ فروخت کر دیا۔

لیکن یہ سودا اسے کچھ بہتر نہیں لگا۔ فرانسیی خبر رساں ادارے سے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے علی کا کہنا تھا:’’ مجھے اپنے اس فعل پر بہت شرمندگی ہے، مجھے ڈالرز تو مل گئے لیکن میں اس شخص کو دیکھ ہی نہ سکا' جس کو میرا دیا ہو گردہ لگے گا۔ اپنی اس غلطی کو شدت سے کوستے ہوئے علی کا مزید کہنا تھا کہ" اب مجھے احساس ہوا ہے کہ میں نے ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے اورغربت کی وجہ سے مجبور ہو کر یہ قدم اٹھایا۔‘‘

علی اردن کے ان درجنوں شہریوں میں سے ایک ہے جنہوں نے رقم کے حصول کیلئے بروکرز کے ہاتھوں دھوکہ کھایا۔ واضح رہے کہ اردن میں ایسے بہت سے ایجنٹ سرگرم ہیں جو ایسے لوگوں کی غربت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئےعلی جیسے اور بہت سے لوگوں کو ورغلا رہے ہیں۔

Afghanische Familie beim Abendessen

غربت کی وجہ سے انسانی اعضا کی سمگلنگ کا مسئلہ پوری دنیا میں ہے

بنیادی طور پر ان لوگوں کو اس بات پر قائل کیا جاتا ہے کہ کسی کی جان بچانے کیلئے اپنے اعضاء کا عطیہ دینا انسانیت کی خدمت ہے اور اس کے بدلے ان کو چند ہزار ڈالرز دے دئے جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب یہ بروکرز ان گردوں کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔

ایسی ہی کارروائی کے مرتکب گیارہ اردنی باشندوں کو قاہرہ سے واپس بھیجا گیا اور ان کے پر انسانی اعضا کی سمگلنگ کا جرم ثابت کرتے ہوئے ہر کسی کو تیس ہزارڈالر کا جرمانہ بھی کیا گیا۔

مصری پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے بہت سے لوگوں پر ہم نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلد ہم اور لوگوں کو بھی پکڑ لیں گے۔ 60 لاکھ کے اس صحرائی ملک میں 70 فیصد کے قریب آبادی 30 سال سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ بے روزگاری کی شرح 14.3 فیصد ہے۔

سال 2007ء میں اعضاء کی سمگلنگ کے اسّی واقعات سامنے آئے تھے، تب اردن نے اس کو کنڑول کرنے کیلئے ایک کمیشن، نیشنل کمیشن ٹو پروموٹ آرگن ڈونیشن، تشکیل دیا۔ جس کا اس ادارے کا مقصد یہ تھا کہ حادثات میں مرنے والے لوگوں کے رشتہ داروں سے ان کے مارے گئے عزیزوں کے اعضاء علیحدہ کر لیئے جائیں۔ اس کمیشن کا کہنا تھا کہ اس طرح سے ہم، ایجنٹوں کی طرف سے انسانی اعضاء کی اس ڈیمانڈ کو کم کرسکیں گے جو غریب لوگوں کواپنی طرف راغب کرتی ہے۔

اسی کمیشن نےایک علاقائی مطالعاتی جائزہ بھی مرتب کیا جس کے مطابق حالیہ مہینوں میں 130 واقعات سامنے آئے ہیں جن میں سے اسّی فیصد ’’ ڈونرز‘‘ کا تعلق فلسطینی مہاجر کیمپ بقآ سے ہے جو کہ عمان کے شمال مغرب میں واقع ہے۔

جائزے کے مطابق گردے نکالنے کیلئے پہلے عراق کے کچھ علاقے استعمال ہوتے تھے لیکن عراق کی خراب سیاسی صورتحال کے بعد اب یہ لوگ آپریشن کیلئے اردن سے مصر، پاکستان اور بھارت کا رخ کر رہے ہیں۔

Körper mit Organen Computergrafik

اردن میں سال 2007ء میں اعضاء کی سمگلنگ کے اسّی واقعات سامنے آئے تھے

یاد رہے کہ شاہ اردن کی بیوی ملکہ رانیہ بھی ایسے ہی ایک ادارے کی سربراہی کر رہی ہیں، جس کا نام ’’جارڈن سوسائٹی فار آرگن ڈونیشن‘‘ ہے۔ اس ادارے سے وابستہ نیفرولوجسٹ محمد لاویز کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ ’’ انسانی اعضا کی سمگلنگ کا مسئلہ پوری دنیا میں ہے، ایسا صرف اردن میں ہی نہیں ہے۔‘‘

مادہ پرستی کے اس دور میں جب ہر چیز بک سکتی ہے توپھر اپنا گردہ کیوں نہیں، یہی وہ سوچ ہے جو ایک بے روزگار غریب کو یہ کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

اسی تناظر میں عالمی ادارہ برائے صحت کا کہنا ہے کہ انسانی اعضا کی سمگلنگ بڑھ رہی ہے۔ بروکرزغریب لوگوں سے گردہ خریدنے کے بعد اس کو امیر مریضوں کے ہاتھ ایک سے دو لاکھ ڈالرز تک میں فروخت کرتے ہیں۔

رپورٹ: عبدالرؤف انجم

ادارت: امجد علی