1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

دلیپ کمار نے زندگی کی ترانوے بہاریں دیکھ لیں

گیارہ دسمبر ہفتے کے روز بھارتی فلمی صنعت کے مایہ ناز اداکار دلیپ کمار کی ترانوے ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر انہیں برصغیر پاک و ہند کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

Indien Schauspieler Dilip Kumar Bollywood

دلیپ کمار کی یہ تصویر دو ستمبر 2008ء کو نئی دہلی میں اتاری گئی، جب انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا

گو دلیپ کمار کے مداح اُن کی سالگرہ پر اُنہیں یاد کر رہے ہیں تاہم ممبئی سے ملنے والی مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق اس سال خاص طور پر چنئی میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث دلیپ کمار کے خاندان نے سالگرہ نہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ دلیپ کمار کو سالگرہ کی صورت میں نظرِ بد لگ جانے کا اور بیمار پڑ جانے کا خدشہ ہے، اسی لیے باقاعدہ تقریب منعقد نہیں کی جا رہی۔ اس حوالے سے بھارتی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی سے باتیں کرتے ہوئے دلیپ کمار کی اہلیہ سائرہ بانو نے کہا:’’میں سمجھتی ہوں کہ جب کبھی بھی ہم سالگرہ مناتے ہیں، یہ بیمار پڑ جاتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے، جیسے انہیں نظر لگ جاتی ہو، ہمیشہ سالگرہ کی تقریب کے بعد صحت کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔‘‘

دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1944ء میں فلم ’جوار بھاٹا‘ سے کیا تھا، جو بمبے ٹاکیز پروڈکشن کمپنی کی زیر نگرانی بنی تھی۔ اُن کے کیریئر کی آخری فلم ’قلعہ‘ کے نام سے 1998ء میں ریلیز ہوئی تھی، جس میں اُن کا ڈبل رول تھا۔ اس فلم کے بعد اُنہوں نے خرابیٴ صحت کی بناء پر فلمی دنیا کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

Bollywood Filmstar Dilip Kumar

دلیپ کمار اپنی اہلیہ سائرہ بانو کے ساتھ، یہ تصویر 22 جنوری 2009ء کو ممبئی میں اتاری گئی

آرٹ فلموں سے عالمی شہرت پانے والے بھارتی ہدایتکار ستیہ جیت رے نے ایک بار دلیپ کمار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اُنہیں انتہائی مکمل ’میتھڈ ایکٹر‘ قرار دیا تھا یعنی قدرتی اداکاری کرنے والا ایک ایسا فنکار، جو اپنے کردار کی تمام کیفیات کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔

دلیپ کمار کی لازوال فلموں میں ’انداز‘، ’داغ‘ اور ’گنگا جمنا‘ جیسے شاہکار شامل ہیں۔ اُنہیں ’المیہ اداکاری کا بادشاہ‘ بھی کہا جاتا ہے تاہم جب وہ مسلسل المیہ کردار ادا کر کے اُکتا گئے تو اُنہوں نے مزاحیہ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور کامیاب رہے۔ ایسی فلموں میں ’آزاد‘، کوہِ نور‘، ’لیڈر‘ اور ’رام اور شیام‘ بھی شامل تھیں۔

اپنے چھ عشروں پر محیط کیریئر کے دوران دلیپ کمار نے کامنی کوشل، مینا کماری، نرگس، نمی اور مدھوبالا جیسی ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا۔ خود دلیپ کمار وجنتی مالا، وحیدہ رحمان اور راکھی کے ساتھ ساتھ خاص طور پر سمیتا پاٹل کے فن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ سب وہ اداکارائیں تھیں، جن کے ساتھ دلیپ کمار نے کام کیا۔

Indien Film Bollywood Schauspieler Rajesh Khanna

ممبئی، 2 جون 2005ء: ایک سینما گھر کی افتتاحی تقریب، اداکار راجیش کھنہ دلیپ کمار کے ہاتھ پر بوسہ دے رہے ہیں، ساتھ ہیں، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیش مکھ

1922ء میں پشاور میں پیدا ہونے والے دلیپ کمار کا اصل نام یوسف خان ہے۔ 1944ء میں فلم جوار بھاٹا سے اپنے چھ عشروں سے زائد عرصے پر محیط کیریئر کا آغاز کرنے والے دلیپ کمار نے ساٹھ سے زائد فلموں میں کام کیا۔ بھارتی فلم انڈسٹری میں فلم فیئر ایوارڈز کو انتہائی معتبر خیال کیا جاتا ہے۔ دلیپ کمار کو آٹھ مرتبہ ’بہترین اداکار کی کیٹیگری‘ میں اِس ایوارڈ سے نوازا گیا، جو کہ آج تک ایک ریکارڈ ہے۔ کوئی دوسرا اداکار مسلسل آٹھ مرتبہ’ بہترین اداکار‘ کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے سے ابھی تک محروم رہا ہے۔

حکومتِ بھارت کی جانب سے اُنہیں 1991ء میں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، 1994ء میں انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا جبکہ اس سال اُنہیں بھارتی فلمی صنعت کے لیے خدمات کے بدلے میں پدم وبھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا ہے۔ 1998ء میں اُنہیں اُن کی سماجی خدمات کے بدلے میں پاکستان کے ایک بڑے سول اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا تھا۔

DW.COM