1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دلوں میں جوش ہاتھوں میں جام، ہم دہشت زدہ نہیں، پیرس کے نوجوانوں کا پیغام

پیرس حملوں کے بعد اس شہر محبت کے باسی دہشت گردوں کو ایک انوکھے انداز میں پیغام دے رہے ہیں۔ پیرس کے نوجوان ہر رات سڑکوں پر نکلتے ہیں، رقص کرتے ہیں، جام پیتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں کہ ’’ہم خوفزدہ نہیں ہیں‘‘۔

’یہ میرا علاقہ ہے‘ ہاتھوں میں ڈرنک لیے آنا بیسس نے ایک گلی کی طرف اشارے کرتا ہوئے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا۔ مگر محض یہی ایک علاقہ نہیں ہے جس پر پیرس کے نوجوان اپنا حق جتا رہے ہیں۔ پیرس کے مشرقی حصے میں اسی گلی سے محض دو بلاک کے فاصلے پر موجود دو کلبوں کو بھی دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تھا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر نوجوان تھے۔

ان خوفناک حملوں کو ایک ہفتے سے زائد وقت گزر چکا ہے۔ 23 سالہ بیسِس اپنی دوستوں اور دیگر کئی نوجوانوں کے ساتھ انہی میں سے ایک کیفے کے باہر اکٹھے ہوتے ہیں اور اپنے علاقے پر اپنا حق جتاتے ہیں۔

دہشت گردوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بیسِس کا کہنا تھا، ’’انہوں نے ہم پر حملہ کیا۔ ہم سب اس سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘ مگر یہ کہتے ہوئے پیرس کی اس نوجوان خاتون کی آواز میں جوش بھر گیا، ’’ہمیں سب کچھ ویسے ہی جاری رکھنا ہو گا۔ ہم یہاں رہتے ہیں، ہم یہاں پارٹی کرتے ہیں۔‘‘

دہشت گردانہ حملوں کے بعد پیرس کے 11ویں اور 12ویں ڈسٹرکٹس میں جیسے ہی رات ہوتی ہے، تمام گلیاں پارٹی زون میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اسی علاقے میں باتاکلان کا کنسرٹ ہال بھی موجود ہیں جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے

پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے متعدد دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے

لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کے خطرات کی نوعیت تبدیل ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر رواں برس جنوری میں پیرس کے ایک میگزین شارلی ایبدو کے دفتر پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے کو آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا گیا تھا تاہم 13 نومبر کو ہونے والے حملوں میں کوئی ایسا ہدف نہیں تھا جسے کہا جا سکے کہ وہ کسی خاص سیاسی وجہ سے نشانہ بنا۔ اسی باعث پوری نسل خود کو حملوں کے زد میں سمجھتی ہے۔

ایک کلب کے باہر کھڑے چار نوجوانوں کا عزم تھا کہ وہ اپنی زندگی جینا نہیں چھوڑ سکتے۔ انہی میں سے ایک فریڈرک پرے کا کہنا تھا، ’’ہم یہاں اپنا سر بلند کیے کھڑے ہیں۔‘‘ 35 سالہ فریڈرک کا مزید کہنا تھا، ’’یہاں اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ ان کے ایک ساتھی 28 سالہ رومان ویل کا کہنا تھا کہ زندگی چلتی رہتی ہے۔ ان تمام دوستوں نے بیک وقت پیرس کے باسیوں کی طرف سے لگایا جانے والا یہ نعرہ دہرایا کہ ’’ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔‘‘