1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’دلت ملکہ‘ نے جوتے بھی جہاز سے منگوائے، وکی لیکس

وکی لیکس پر امریکی سفارتکاروں کے جاری کردہ خفیہ کیبلز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کی وزیراعلیٰ مایاوتی نے ایک خصوصی جہاز کے ذریعے ممبئی سے اپنے من چاہے سینڈلز منگوائے۔

default

وکی لیکس کی ویب سائٹ پر جاری کردہ امریکی سفارتی کیبلز میں مایاوتی کو ’پہلے درجے کی خود پسند‘ قرار دیا گیا ہے۔ کیبلز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مایاوتی ’وزارت عظمیٰ کے خواب‘ بھی دیکھ رہی ہیں۔

55 سالہ مایاوتی، نچلی ذات کی ہندوؤں کی نمائندہ کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبادی کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں وہ ایک انتہائی مضبوط سیاسی پوزیشن کی مالک ہیں۔ تاہم صرف ایک نام کا استعمال کرنے والی مایاوتی پر بدعنوانی کے الزامات بھی ڈھکے چھپے نہیں۔

ان پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں کہ انہوں نے خود سمیت نچلی ذات کے ہندوؤں کے رہنماؤں کے متعدد مجسمے اور ان کے ناموں پر انتہائی زیادہ سرمایے سے بڑے بڑے پارک بنائے ہیں۔

Mayawati, Uttar Pradesh, Wahlen

مایاوتی کو اتر پردیش کی سب سے مضبوط سیاسی شخصیت سمجھا جاتا ہے

اکتوبر سن 2008ء کی ایک سفارتی کیبل میں تحریر ہے، ’جب انہیں نئے جوتوں کی ضرورت تھی، تو انہوں نے ایک خالی جیٹ طیارہ ممبئی بھیجا تاکہ وہ ان (مایاوتی) کی پسند کے جوتے ان تک پہنچا سکے۔‘

کیبل میں یہ بھی تحریر ہے کہ مایاوتی نے اپنے دفتر سے گھر تک ایک سڑک تعمیر کرائی، جو ان کے کئی گاڑیوں پر مشتمل قافلے کے آنے اور جانے کے بعد فوری طور پر صاف کی جاتی ہے۔

کیبل میں درج ہے کہ مایاوتی نے ایسے لوگ بھی بھرتی کیے، جو مایاوتی کو دیے جانے والےکھانے سے قبل اس میں کسی ممکنہ زہر کی جانچ کے لیے یہ کھانا خود کھا کر چیک کرتے ہیں۔

اس کیبل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مایاوتی نے ایک ریاستی وزیر کو ایک معمولی غلطی پر ’اٹھک بیٹھک‘ کروائی جبکہ مایاوتی کی پارٹی کے ٹکٹ کے لیے متعدد امیدواروں نے انہیں لاکھوں ڈالر دیے۔

اس کیبل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مایاوتی کی ترجمان نے کہا کہ ’ان الزامات‘ میں کوئی صداقت نہیں۔ مایاوتی کی ترجمان اس سابق استانی کا کہنا تھا کہ مایاوتی نے نچلی ذات کے لاکھوں افراد کو معاشرے میں قابل رشک مقام دیا۔

رپورٹ:  عاطف توقیر

ادارت:  امتیاز احمد

DW.COM