1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دلبرداشتہ بھارتی صنعتکاروں کی بیرون ملک سرمایہ کاری

بھارت میں شرح سود میں اضافے، مختلف کمپنیوں میں بڑھتے ہوئے مقابلے، پالیسیوں کے حوالے سے بدانتظامی اور بدعنوانی کے اسکینڈلز کی بدولت ملکی کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری اب دیگر ملکوں میں منتقل کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ

ڈاکٹر منموہن سنگھ

بھارت میں بدعنوانی کے حالیہ واقعات وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کی حکومت کے لیے تو پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں، ملکی سرمایہ کار بھی اس بدعنوانی اور بدانتظامی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر پریشان ہیں۔

سرمایہ کاری کے حوالے سے ملک میں پریشان کن حالات کے باعث بھارت میں ربڑ پیدا کرنے والے سب سے بڑے ادارے نے اپنی اگلی سرمایہ کاری ملک سے باہر کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اور وہ بھی دوسرے براعظم یعنی افریقہ میں۔ ہیریسنز ملیالم Harrisons Malayalam نامی کمپنی ملک میں چائے کی پیداوار کے حوالے سے بھی اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ کمپنی بھی ایسے بڑے سرمایہ کاروں میں شامل ہے جو ملک سے باہر سرمایہ کاری کا ارادہ کر رہے ہیں۔ ہیریسنز ملیالم کا براعظم افریقہ میں 10 ہزار ایکڑ زمین خریدنے کے لیے 112 ملین امریکی ڈالرز خرچ کرنے کا منصوبہ ہے۔

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے رواں برس مئی میں افریقہ کے چھ روزہ دورے کے دوران افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بہتر بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے اور ترقیاتی معاونت کا وعدہ کیا۔

رواں برس مئی میں دو روزہ بھارت افریقہ تجارتی سمٹ منعقد ہوئی

رواں برس مئی میں دو روزہ بھارت افریقہ تجارتی سمٹ منعقد ہوئی

اس موقع پر دو روزہ بھارت افریقہ تجارتی سمٹ بھی منعقد کی گئی۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے 27 مئی کو تنزانیہ میں صدر جکایا کِکویٹے Jakaya Kikwete سے ملاقات کے بعد اپنے خطاب میں کہا:’’تنزانیہ کے ساتھ اپنی روایتی دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے صدر اور میری بہت فائدہ مند گفتگو ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری پر میں بے حد خوش ہوں۔‘‘

بھارتی کمپنیوں کی طرف سے غیرملکی سرمایہ کاری کو عام طور پر بھارت کی طرف سے اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جاتا ہے، تاہم ان کمپنیوں کے مطابق اس کی وجہ ایشیاء کی اس تیسری بڑی معاشی قوت میں سرمایہ کاری کے لیے نامناسب حالات ہیں۔

ہیریسنز ملیالم کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر پنکج کپور کے مطابق بھارت میں ذرعی زمین بے حد کم ہے اور جو دستیاب ہے اسے حاصل کرنے کے لیے مقابلہ بازی بہت ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایسی کمپنیاں اب افریقہ کا رخ کر رہی ہیں جہاں ایسی زمین دستیاب بھی ہے اور نسبتاﹰ سستی بھی۔

رواں برس جنوری میں بھارتی مرکزی بینک کے بعض سابق گورنروں اور اہم صنعت کاروں پر مشتمل 14 افراد کے ایک گروپ نے حکومت کے نام ایک کھلے خط میں خبردار کیا تھا کہ بدعنوانی اور بدانتظامی بھارتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان حالات میں بھارت کے نامور سرمایہ کار ملک سے باہر سرمایہ کاری کا ارادہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ حالات بھارت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس