1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دلائی لامہ کا سیاست چھوڑنے کا اعلان اور تبتیوں کا رد عمل

تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے عملی سیاست کو خیرباد کرنے کا اعلان ضرور کردیا ہے لیکن تبتی آبادی ابھی قدرے ’’شاک‘‘ میں ہے۔ تبتیوں کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

default

دلائی لامہ: فائل فوٹو

سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں دلائی لامہ نے سیاست کو بظاہر خیرباد کہنے کا اعلان ضرور کردیا ہے لیکن وہ تبت کی جلا وطن حکومت کے لیے ایک ایسے لیڈر کو لا سکتے ہیں جو صرف مہرہ ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ اس اعلان سے چین اور بھارت کی حکومتوں کو امکانی طور پر راحت میسر آ سکتی ہے۔

بھارتی دارالحکومت میں دلائی لامہ کے اعلان کے حوالے سے 21 سالہ تبتی طالبہ تاشی دولما کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ طویل مدتی تناظر میں مناسب دکھائی دیتا ہے اور اس سے تبتی آبادی کے اندر جمہوری رویوں کو افزائش ملے گی۔ دولما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک نوجوان کے طور پر وہ خیال کرتی ہے کہ مناسب وقت پر دلائی لامہ نےسیاست کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب تبتی تحریک اگلے نسل کے ہاتھ میں تھمانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ بھارت میں مقیم تبتیوں کی نئی نسل کے بیشتر افراد تاشی دولما کے خیالات سے متفق دکھائی دیتی ہے۔

Deutschland Tibet Dalai Lama in Frankfurt

دلائی لامہ فرینکفرٹ میں

32 سالہ فلم ساز تینسین ڈھون ڈوپ نے اس اعلان کو تبتیوں کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے اسے آنکھیں کھولنے سےتعبیر کیا ہے۔ دھرم شالہ کے رہائشی ڈھون ڈوپ کا کہنا ہے کہ دلائی لامہ کا اپنے چیلوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ شخص جسے وہ دیوتا اور حکمران خیال کرتے ہیں وہ تاحیات ان کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا۔ ڈھون ڈوپ کے مطابق تمام تبتی یہ چاہتے ہیں کہ دلائی لامہ جیسی ہر دلعزیز شخصیت ہمیشہ ان کے ساتھ رہے اور وہ ان کے خیالات سے مستفید ہوتے رہیں۔ ڈھون ڈوپ کی عمر کے لوگوں کا خیال ہے کہ دلائی لامہ نے سیاست کو خیر باد کہہ کر ان پر بہت زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے۔

75 سالہ عالمی شہرت کے حامل دلائی لامہ نے چند روز قبل کہا تھا کہ وہ اپنے سیاسی کردار کو کسی اور کے سپرد کر کے صرف روحانی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔ اس مناسبت سے وہ رواں ماہ کے آخر میں تبتیوں کی کونسل سے جلا وطن تبتی دستور میں ترمیم کی درخواست کریں گے۔ ترمیم کے بعد بھارت میں مقیم دو لاکھ سے زائد تبتی آبادی اپنے لیے ایک نئے وزیر اعظم کا انتخاب کرے گی۔ اس مناسبت سے بیس مارچ کا دن ووٹنگ کے لیے مختص کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مقبول تبتی راہب کرامپا لاما کو نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس