1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دلائی لاما کی جلاوطنی کے پچاس سال

تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما نے اپنی جلاوطنی کے پچاس سال پورے ہونے پر پوری دنیا اور بالخصوص بھارت کی حکومت اور عوام کا، تبتیوں کے کاز کےلئے مسلسل تعاون دینے پر شکریہ ادا کیا۔

default

دلائی لاما اپنے عقیدت مندوں سے ملاقات کے دوران

انہوں نے اس موقع پر عالمی رہنماوں بالخصوص بھارت اور امریکہ سے کہا کہ وہ چین کی اقتصادی طاقت کے دباؤ میں نہ آئیں اور اصولوں اور اخلاقی اقدارکو قربان نہ کریں۔

انہوں نے کہا:’’ بے خوف ہوکر اور خودغرضی سے اوپر اٹھ کر بہادری اور جرآت کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے نہ صرف بھارت کو بلکہ امریکہ کو بھی۔ بدقسمتی سے آج اصولوں کے بجائے دولت عالمی سیاست کی زبان بن گئی ہے۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ معیشت یقینا اہم چیز ہے لیکن اسے اصولوں پر ترجیح دینا درست نہیں ہے۔‘‘

تبتیوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما تبت سے 14 دنوں کے انتہائی مشکل اور خوفناک سفر طے کرکے 30 مارچ 1959 کو بھارت کی سرحد میں داخل ہوئے تھے۔جس کے بعد تقریبا 80 ہزار عقیدت مند بھی تبت سے کسی طرح اپنی جان بچا کر بھارت پہنچ گئے۔ اپنی جلاوطنی کے پچاس سال پورے ہونے کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ تبتیوں کا ایک آزاد مملکت کا خواب جلد ہی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

چین کا دعوی ہے کہ تبت میں لوگ خوشحالی کی زندگی بسر کررہے ہیں اور بیجنگ کے ساتھ الحاق کے بعد انہوں نے عہد وسطی سے جدید زمانے میں قدم رکھا ہے۔ دلائی لاما نے کہا:’’اگر چین کا یہ دعوی درست ہے تو اسے بین الاقوامی میڈیا ٹیم کو وہاں جاکر حالات کا جائزہ لینے کی اجازت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ’’ ایک بین الاقوامی میڈیا ٹیم کو تبت کے حالات کاجائزہ لینے کا موقع دینا چاہئے اگر تبت کے لوگ واقعی خوش ہیں تو ہمیں کو ئی شکایت نہیں ہوگی اور ہمیں خوشی ہوگی۔‘‘

BdT Proteste Exiltibeter in Indien

بھارت میں تبتی باشندے ایک احتجاجی جلوس میں نعرے لگاتے ہوئے

دلائی لامہ نے اس موقع پر چین کی حکومت سے اپیل کی کہ بین الاقوامی میڈیا ٹیم کو تبت جانے کی اجازت دے۔

تبت کے مسئلے پر دلائی لامہ کی ٹیم اور چینی حکام کے ساتھ آٹھ دور کی بات چیت ہوچکی ہے لیکن ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ اس حوالے سے دلائی لاما نے کہا کہ یہ معاملہ چھ ملین تبتیوں کے حقوق کا ہے ا ور جب تک ان کے حقوق پوری طرح نہیں مل جاتے تب تک بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ چین اپنی بات چیت کو صرف میری واپسی تک مرکوز رکھنا چاہتا ہے لیکن میری واپسی کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ تبت کے عوام کا ہے۔

نوبل امن انعام یافتہ 73 سالہ تبتی رہنما نے کہا : ’’تبتی اب بھی اپنے حقوق کے لئے پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔اس کے باوجود چینی حکام تبت کے نوجوانوں کی تنظیموں کو دہشت گرد اور مجھے شیطان قراردیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایک یاد و نوجوان ایسے ہوں لیکن جہاں تک اکثریت کا سوال ہے وہ عدم تشدد پر رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود چینی حکام ہمارے نوجوانوں کی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں حتی کہ مجھے شیطان بھی قرار دیا جاتا ہے۔‘‘

تبتی رہنما نے اپنے تحریری بیان میں الزام لگایا کہ چین نے تبت کو اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کا ٹھکانہ بنا دیا ہے۔ آج چین تبت کو اپنے اور غیرملکی نیوکلیائی کچروں کے لئے dumping ground کی طرح استعمال کررہا ہے1984 میں چائنا نیوکلیئر انڈسٹری کےآپریشن نے مغربی ملکوں کو ڈیڑھ ہزار امریکی ڈالر فی کلوگرام کے حساب سے اپنے نیوکلیائی کچرے تبت میں پھینکنے کی پیش کش کی تھی۔

DW.COM