1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دلائی لاما کا پیغام

دلائی لاما نے اپنے پیروکاروں کو تنبیہ کی ہے کہ اگر انہوں نے اگلے بیس برس کے دوران اپنے قدم سوچ سمجھ کر نہیں اٹھائے اور حکمت عملی کو احتیاط سے مرتب نہں کیا انہیں شدید خطرے کا سامنا کرنا ہو گا۔

default

میرا ایمان ہے کہ ایک دن ہم تبت واپس جائیں گے۔ ہم اپنے وطن واپس ضرور لوٹیں گے۔ دلائی لاما

اس بات کا اظہار انہوں نے بھارت کے شہر دھرم شالہ میں ہونے والی چھ روزہ تبتی جلا وطنوں کی ایک کانفرنس کے

Dalai Lama Tibetan Uprising Day

جلاوطن بدھ رہنما دلائی لامہ انیس سو انسٹھ میں چینی اقتدار کے خلاف تبت میں ناکام بغاوت کے بعد سے بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔

لیے اکٹھے ہوئے تبتی جلا وطنوں سے کیا۔ چین سے مذاکرات کے بعد تبت کی خودمختاری کے حوالے سے اپنے بیان کو دوہرایا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ چینی حکام پر ان کا بھروسہ دن بدن اٹھتا جا رہا ہے۔

دلائی لاما نے کہا کہ وہ آج بھی تبت واپس جانے کے لیے پر امید ہیں ۔ ’’ میرا ایمان ہے کہ ایک دن ہم تبت واپس جائیں گے۔ ہم اپنے وطن واپس ضرور لوٹیں گے۔ ‘‘دھرم شالہ منعقدہ کانفرنس میں چھ سو تبتی شریک تھے۔ اس کانفرنس میں انہوں نے چین کے ساتھ تبت کے حوالے سے مذاکرات کا لائحہ عمل تیار کیا۔

کانفرنس میں یہ طے پایا کہ تبتی جلا وطن چین سے خودمختاری حاصل کرنے کے لیے درمیانی راہ اپنائیں گے۔ خیال رہے کہ دلائی لاما چین سے مذاکرات کے بعد تبت کو خود مختار ریاست بنانے کے حامی ہیں۔دلائی لامہ کا بیان ان لوگوں کے لیے نا امیدی کا باعث بنا ہے جو چین سے آزادی لینے کے حق میں ہیں۔

تہتر سالہ روحانی پیشوا کی ریٹائرمنٹ کی افواہوں کے جواب میں انہوں نے کہا :’’ جب تک یہ جسم رہے گا تب تک تبت کا نام ہے۔ میرے مرنے تک یہ میری اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔ اس مقصد سے سبکدوشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ میری پوزیشن جزوی ریٹائرمنٹ کی سی ہے۔ ‘‘

جلاوطن بدھ رہنما دلائی لاما انیس سو انسٹھ میں چینی اقتدار کے خلاف تبت میں ناکام بغاوت کے بعد سے بھارت میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکمرانوں سے بھی مدد کی اپیل کی۔