1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

دفتر چھوٹا سا مگر کام بڑے بڑے

آئرلینڈ کا ڈیٹا پرائیویسی اتھارٹی ایک ایسا ادارہ ہے، جو انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین اور اداروں کی پرائیوٹ سیٹنگس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس کا دفتر ایک چھوٹے سے آئرش شہر میں ہے اور ملازمین کی تعداد صرف پچاس ہے۔

آئرلینڈ میں درجنوں یورپی اداروں کے صدر دفاتر قائم ہیں اور ان یورپی اداروں کی پرائیویسی سیٹنگز کی آڈیٹنگ اور معائنہ کرنا آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر (ڈی پی سی) کی ذمہ داری ہے۔ یورپی عدالت انصاف نے اس ماہ ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد فیس بک، گوگل، ٹوئیٹر، لِنکڈ اِن، ایپل اور مائیکروسافٹ جیسے چند معروف ادارے بھی ڈی پی سی کی ذمے داری بن گئے ہیں۔

یورپی عدالت انصاف نے فیس بک کے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کا تعلق یورپی شہریوں کے نجی کوائف واشنگٹن حکام کے حوالے کرنا تھا۔ ایک آئرش عدالت بھی آج منگل 20 اکتوبر سے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کرنے کے حوالے سے سماعت کے آغاز کا سوچ رہی ہے۔

Symbolbild - Facebook

یورپی عدالت انصاف نے فیس بک کے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کا تعلق یورپی شہریوں کے نجی کوائف واشنگٹن حکام کے حوالے کرنا تھا

ڈی پی سی کا دفتر پورٹرلنگٹن نامی شہر میں ہے۔ یہ شہر ڈبلن سے نوے کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد کواس دفتر کا علم ہے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ ڈی پی سی ان دیواروں کے پیچھے کیا کام کر رہا ہے۔ اکیس سالہ ایک طالب علم ٹوم مورس نے بتایا، ’’ہم ہمیشہ اس کے سامنے سے گزرتے ہیں لیکن ہمیں اس بارے میں زیادہ علم نہیں‘‘۔ ڈی پی سی کے دفتر کو یہاں منتقل کرنے کا مقصد حکومتی ایجنسیوں کو مختلف شہروں میں قائم کرنا ہے تاکہ چھوٹے شہروں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ آئرش حکومت 2000ء کی دہائی کے وسط سے اپنے اس منصوبے پر عمل کر رہی ہے۔

ڈی پی سی کا قیام 1998ء میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت انٹرنیٹ کے ہماری روز مرہ سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا اور یہ بھی نہیں علم تھا کہ آئرلینڈ ایک دن دنیا بھر کی بڑی بڑی ٹیکنیکل کمپنیوں کا مرکز بن جائے گا۔ آئرش وزیر اعظم اینڈا کینی نے گزشتہ برس کابینہ میں ردو بدل کرتے ہوئے ڈیٹا پروٹیکشن کی وزارت کو بھی متعارف کرایا تھا۔ اس کے علاوہ ابھی پچھلے ہفتے ہی ڈی پی سی کو اضافی 1.1ملین یورو دیے گئے ہیں۔ اب 2016ء کے لیے اس ادارے کا بجٹ 4.7 ملین یورو تک پہنچ گیا ہے جبکہ آج سے دو سال قبل ڈی پی سی کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے صرف 1.8 ملین یورو ملتے تھے۔