1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

دفاعی اخراجات میں کمی سے امریکہ کمزور پڑ سکتا ہے، پنیٹا

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے واشنگٹن حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ قرضوں کی حد بڑھانے سے متعلق معاہدے کی پاداش میں اپنے محکمے کے بجٹ میں بہت بڑی کٹوتیاں برداشت نہیں کریں گے۔

default

پنیٹا کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے امریکہ، ابھرتی ہوئی دیگر عالمی قوتوں کے مقابلے میں مزید کمزور ہوجائے گا۔ سی آئی اے کی سربراہی چھوڑ کر وزات دفاع کا قلمدان سنبھالنے کے بعد یہ لیون پنیٹا کی پہلی باضابطہ نیوز کانفرنس تھی۔ امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن کے درمیان ریاستی قرضوں کی حد بڑھانے کا ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے توسط سے امریکہ دیوالیہ پن سے تو بچ گیا مگر کئی شعبوں کے ترقیاتی بجٹ میں نمایاں کٹوتیوں کے خدشات موجود ہیں۔

پنیٹا جوکہ پہلے خود بھی صدر باراک اوباما کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے تھے، اس پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’’ اگر خدا نے چاہا تو اس عمل کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں نہیں ہوں گی۔‘‘ واضح رہے کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی محکمہ ء دفاع کے بجٹ میں سے کم از کم 600 ارب ڈالر کی کٹوتی کی جاسکتی ہے۔

Obama im Situation Room NO FLASH

امریکی اعلیٰ عہدیدار القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے

پنیٹا نے معاملے کی سنگینی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ’’ مجھے یقین ہے ایسی کٹوتیوں سے ہماری سلامتی، مسلح افواج اور ان کے خاندانوں اور قومی سلامتی سے متلعق فوج کی صلاحیت کو نقصان پہنچے گا۔‘‘ پنیٹا کا کہنا تھا کہ یہ ایسی صورتحال ہے، جو وہ خود بحیثیت وزیر دفاع، صدر باراک اوباما اور مجموعی طور پر امریکی قوم کے لیے ناقابل قبول ہے۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر کے بعد سے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ 2001ء کے بعد سے محکمہ ء دفاع کے لیے مجموعی وفاقی بجٹ کا لگ بھگ 20 فیصد مختص کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال امریکی حکومت نے دفاع پر 700 ارب ڈالر خرچ کیے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکی صدر اوباما کا ارادہ ہے کہ رواں سال کے آخر تک عراق سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے۔ اسی طرح افغانستان سے براہ راست طور پر جنگ میں مصروف تمام امریکی فوجیوں کو 2014ء کے آخر تک واپس بلانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ ان دونوں اقدامات کے پیچھے اہم کارفرما عوامل میں سے ایک محکمہء دفاع کے اخراجات میں کمی لانا ہے۔ القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس ضمن میں کفایت شعاری کے مطالبات میں ویسے ہی کافی شدت دیکھی جارہی ہے۔

NO FLASH Pakistan USA Militär Übung Manöver

امریکی اور پاکستانی افواج مشترکہ فوجی مشق کے دوران، فائل فوٹو

لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کو ’مستحکم انجام‘ تک لانے کے لیے اب بھی اخراجات کی ضرورت ہے۔ وزیر دفاع کے بقول ایران اور شمالی کوریا، جو ان کے خیال میں خفیہ طور پر جوہری پروگرام پر کام کر رہے ہیں، کی جانب سے بھی امریکی مفادات کو خطرات لاحق ہیں۔

ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے مابین طے شدہ معاہدے کے تحت پینٹاگون کے اخراجات میں 350 ارب ڈالر کی کٹوتی کی جائے گی، جو پنیٹا کے خیال میں کسی بڑی پریشانی کا سبب نہیں۔ اگلے مراحل میں 2021ء تک پینٹاگون کے اخراجات میں لگ بھگ 600 ارب ڈالر کی ممکنہ کٹوتیوں سے ان کے اصل خدشات وابستہ ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس