1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

دعا کی کہانی: سمندر کی موجوں سے بھی طاقتور ایک امید

یورپ کی جانب ہجرت کے دوران دعا کا منگیتر بحیرہ روم کی خونی موجوں کی نذر ہو گیا۔ جب دعا کو ایک امدادی کارروائی کے دوران بچایا گیا، تب وہ دو معصوم بچوں کو بانہوں میں سنبھالے ہوئے تھی۔

اپنے دھیمے اور معصوم انداز میں جب وہ اپنی کہانی سنا رہی تھی تو اس کے سامنے بیٹھے پندرہ صحافی اس کے انداز سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ جب اس نے گفت گو ختم کی تو ان صحافیوں نے خلاف معمول کھڑے ہو کر کافی دیر تک انہیں داد دی۔

دعا کی سچی اور پُر درد کہانی کو یو این ایچ سی آر سے وابستہ میلیسا فلیمنگ اور خود دعا نے مل کر ایک کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے۔ کتاب کا عنوان ’’سمندر سے بھی طاقتور ایک امید‘‘ رکھا گیا ہے۔ فلیمنگ نے اقوام متحدہ کے مہاجرین کے امور سے متعلق اس ادارے سے اپنی وابستگی کے دوران سینکڑوں ایسے انسانوں کی کہانیاں سنیں اور دیکھیں، جو اپنے گھروں سے نکلنے کے بعد ’انسان‘ کے بجائے صرف ’مہاجر‘ بن کر رہ گئے تھے۔

دُعا نے بڑے تحمل کے ساتھ اپنے بچپن کے بارے میں بتایا۔ وہ جنوب مشرقی شام کے ایک قصبے میں اپنے خاندان کے ہمراہ رہتی تھی۔ جب بشار الاسد برسراقتدار آئے اور دمشق کی سڑکوں پر مظاہرے شروع ہوئے تب وہ محض چھ برس کی تھی۔ اس نے بتایا کہ جب اس کے باپ کی دکان تباہ ہو گئی تو انہوں نے مصر کی جانب ہجرت کا فیصلہ کیا۔

Buchcover Doaa - Meine Hoffnung trug mich über das Meer

دعا کی کہانی پر مبنی یہ کتاب انگریزی اور جرمن زبان میں شائع ہو چکی ہے

مصر میں تب مُرسی برسراقتدار تھے۔ دعا کے مطابق مصری عوام مُرسی سے خوف زدہ تھے لیکن جب السیسی نے اقتدار سنبھال لیا تو حالات مزید بگڑ گئے۔ تب دعا اور اس کے منگیتر باسم نے یورپ کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ستمبر 2014ء میں وہ دونوں ایک کشتی میں سوار ہو کر بحیرہ روم میں اتر گئے۔ اس کشتی میں پانچ سو سے زائد افراد سوار تھے۔ دعا اس سفر سے ڈری ہوئی تھی کیوں کہ اسے تیرنا نہیں آتا تھا۔

اور پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ کشتی اُلٹ گئی۔ دعا اور باسم ایک ساتھ ہی تھے لیکن ان کے ارد گرد لوگ ڈوبتے جا رہے تھے۔ دو دنوں تک بحیرہ روم کے کھلے پانیوں میں وہ کشتی کو تھامے اپنی زندگی کی دعائیں کرتے رہے لیکن آخر باسم کی بانہیں شل ہو گئیں۔ دعا نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے دیکھا وہ منظر آج بھی اس کی آنکھوں میں آنسو لے آتا ہے۔

دعا کے ہاتھ تیرنے میں مددگار ایک رنگ لگا اور وہ اس کی مدد سے تیرتی رہی۔ ایک ڈوبتے جوڑے نے اپنے دو ننھی بچیاں اس کے حوالے کیں اور دعا سے درخواست کی کہ وہ ان کا خیال رکھے۔ ایک بچی صرف نو ماہ کی تھی، دعا نے دونوں کو تھام لیا۔ پھر وہ جوڑا بھی سمندر کی لہروں کی نذر ہو گیا۔

دعا ان بچیوں کے ساتھ زندہ بچ گئی اور اٹلی پہنچ گئی۔ اس واقعے کے ڈھائی سال بعد اب دعا سویڈن میں مہاجر کے طور پر رہ رہی ہے۔ اسے امید ہے کہ ایک دن وہ اپنے وطن، اپنے گھر لوٹ پائے گی۔

دعا کی شریک مصنف فلیمنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مہاجر مخالف یورپی سیاست دانوں کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ سیاست دان لوگوں کے ذہنوں میں موجود ’اجنبیوں سے خوف‘ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

جرمنی: طیارے آدھے خالی، مہاجرین کی ملک بدری میں مشکلات حائل

ویڈیو دیکھیے 02:13

جرمنی میں خوش ہیں لیکن گھر یاد آتا ہے

Audios and videos on the topic