1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

درگاہ کے  متولی پر  قتل اور دہشت گردی کے الزامات عائد

پاکستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ صوبہ  پنجاب کے شہر سرگودھا کے قریب ایک درگاہ کے متولی پر 20 افراد کو قتل کرنے اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اِن افراد کو خنجروں اور لاٹھیوں سے وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔

Pakistan Sargodha Anschlag Sufi Schrein (Reuters/Stringer)

بیس افراد کے قتل کی یہ واردات صوفی محمد علی کے مزار پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ہوئی

پولیس کا کہنا ہے کہ درگاہ کے پچاس سالہ متولی عبدالوحید اور اُس کے تین مبینہ ساتھیوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مقتولین کے رشتہ دار عبدالوحید پر اس حد تک  اندھا اعتقاد رکھتے ہیں کہ انہوں نے اُس کے خلاف الزامات دائر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بیس افراد کے قتل کی یہ واردات صوفی محمد علی کے مزار پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ہوئی۔

صوفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد ’پیروں‘ یا ’زندہ اولیا‘ پر  اعتقاد رکھتے ہیں۔ اِن کا ماننا ہے کہ یہ افراد خدا سے براہِ راست اُن کے لیے سفارش کر سکتے ہیں۔ علاقے کے سینیئر  پولیس عہدے دار ملک غلام عباس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ بات عجیب ہے کہ مقتولین کے عزیز رشتہ دار بھی متولی کے خلاف  ایف آئی آر درج نہیں کرانا چاہتے۔

 عباس نے مزید کہا، ’’ انہیں اپنے پیر پر اتنا اندھا اعتقاد ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہوا وہ  اللہ کی رحمت  ہے۔‘‘ کیس کے ایک تفتیش کار ارشد عباس نے اے ایف پی کو بتایا کہ عبدالوحید نے پولیس کو بیان میں کہا ہے کہ اُس نے مریدوں کو اس لیے قتل کر دیا کیونکہ اسے خوف تھا کہ ایک دن وہ اسے ہلاک کر دیں گے۔

 مقامی پولیس سربراہ شمشیر جوئیہ کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں کہ مزار پر کنٹرول قتل کی واردات کے لیے ایک اضافی عنصر تھا یا نہیں۔ جوئیہ کے مطابق مزار میں دفن پیر محمد علی کا بیٹا اور خاندان کے کچھ ایسے افراد بھی مقتولین میں شامل ہیں جو مزار کی زمین کے مالک تھے۔

 کچھ پولیس اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وحید ذہنی مریض ہے اور پہلے بھی اپنے پیرو کاروں پر تشدد کرتا رہا ہے۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کے لیے لیبارٹری رپورٹ کی منتظر ہے کہ آیا ہلاک شدگان کو قتل سے پہلے نشہ آور ادویات دی گئی تھیں یا نہیں۔

DW.COM