1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

درد کُشا گولی روزے داروں کے لیے مددگار

اسرائیلی محققین نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ماہ رمضان میں سحری کے وقت پین کِلر یا درد کشا گولی کا استعمال دن بھر سر درد کی تکلیف سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

default

محققین کے مطابق سحر و افطار کے دوران طویل وقفے کے باعث بہت سے روزے دار سردرد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہودی بھی سال میں ایک بار یم کیپور کے مقدس دن کے موقع پر 25 گھنٹے طویل روزہ رکھتے ہیں اور انہیں بھی سردرد کی شکایت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سائنسی جریدے ہیڈِک (سردرد) میں شائع ہونے والی رپورٹ میں محققین کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان میں مسلسل روزے رکھنے والے ہر دس میں سے چار افراد کو سردرد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Ausstellung The Fragmented Mirror

یہودی بھی یم کیپورکے موقع پر 25 گھنٹے طویل روزہ رکھتے ہیں

مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان اور یہودیوں کے مقدس دن یم کیپور کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کی ہارٹ فورڈ یونیورسٹی کے محقق اور اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ Michael Drescher نے کہا کہ روزوں اور سردرد کے درمیان تعلق ثابت ہے۔’’یم کیپور اور یکم رمضان کے بعد سردرد کی شکایات ایک عام بات ہیں۔‘‘

ڈاکٹرز اب تک یہ نہیں جان پائے ہیں کہ اس کی وجوہات کیا ہیں تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر اس کی ایک وجہ جسم میں پانی کی مقدار میں کمی ہو سکتی ہے۔ محققین کا یہ بھی خیال ہے کہ چائے یا کافی کا استعمال کرنے والے افراد ممکنہ طور پر جسم میں کیفین کی کمی واقع ہو جانے کے بعد بھی سردرد کا سامنا کرتے ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے یہودی، جو یم کیپور کے روز 25 گھنٹے طویل روزے کے آغاز کے وقت etoricoxib یا Arcoxia نامی گولی کا استعمال کرتے ہیں، ان میں سردرد کی شکایت کم دیکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ Arcoxia نامی گولی پر امریکہ میں خوراک اور ادویات کے محکمے کی طرف سے پابندی عائد ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ نے سن 2004ء میں اسے Vioxx نامی گولی سے قریب قرار دیتے ہوئے اس کا استعمال ممنوع قرار دے دیا تھا۔

Arcoxia کے بارے میں امریکہ ماہرین کا خیال ہے کہ سردرد کی یہ گولی Vioxx کے جیسی ہے اور Vioxx بعض حالات میں دل کے دورے کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم اسرائیل اور دیگر ممالک میں Arcoxia باآسانی دستیاب ہوتی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM